رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 420
420 465 دسمبر 1948ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک مجلس ہے جس میں لوگ حلقہ باندھے بیٹھے ہیں۔حلقہ کے اندر ایک اور نیم دائرہ سا بنا ہوا ہے جس میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیٹھے ہیں ان کے ساتھ میں بیٹھا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کسی مضمون پر درس دینے کے لئے انہیں مقرر کیا ہے اور ان کے پاس اس لئے بیٹھا ہوں کہ اگر وہ غلطی کریں تو اصلاح کردوں جب وہ سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کو جو حلقہ باندھے بیٹھے تھے کچھ باتیں بتا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ چوہدری صاحب وينك کے کیا معنے ہیں۔چوہدری صاحب نے کوئی ایسا جواب دیا کہ کوئی قوم ہوتی ہے یا ایسا ہی کچھ ہے اس پر میں نے کہا کہ کشمیریوں کی بھی ایک قوم وائی یا وائیں ہوتی ہے ممکن ہے یہ لفظ اس سے بگڑا ہوا ہو۔رویا میں تو میں نے بھی یہی جواب دیا۔لیکن رؤیا کے بعد خیال گذرا کہ شاید یہ کسی عربی لفظ سے بگڑا ہوا ہے عربی زبان میں ونی کے معنے ترک کرنے کے ہوتے ہیں اور و ناک کے سنے ہوں گے تجھے ترک کر دیا شاید کسی دوست یا تعلق رکھنے والے کے قطع تعلق کی طرف اشارہ ہے وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ الفضل 19 - دسمبر 1948ء صفحہ 3 466 15۔دسمبر 1948ء فرمایا : میں نے دیکھا ہے کہ میں کسی جگہ پر کھڑا ہوں اور مولوی محمد علی صاحب تشریف لائے ہیں۔ان کے ساتھ ایک نوجوان ہے جس کی شکل سے رُشد کے آثار ٹپکتے ہیں مولوی صاحب نے اس کو مجھ سے ملوایا اور کہا یہ میرا لڑکا ہے یہ انگلستان جا رہا ہے اور یہ آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے اس کے بعد مولوی صاحب تو کہیں چلے گئے اور وہ نوجوان مجھ سے دین کے متعلق کچھ سوالات کرتا رہا اور میں نے دیکھا کہ اس نوجوان کی طرز میں ادب اور حیا پایا جاتا ہے۔اس رؤیا کے دو تین دن بعد ہم کسی دعوت میں جا رہے تھے اتفاقا پھر ڈاکٹر حمید صاحب کی کار ہی میں جا رہے تھے میں نے ان سے رویا کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ رویا بھی آپ کی پوری ہو رہی ہے کیونکہ محمد علی صاحب کے چھوٹے لڑکے انگلستان تعلیم کے لئے جا رہے ہیں میں نے کہا کہ آپ کو کیونکر معلوم ہوا انہوں نے کہا کہ وہ میرے پاس طبی سرٹیفکیٹ کے لئے آئے تھے نیز