رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 415
415 کہ کہیں کوئی چھونا وغیرہ نہ ہو طہارت کے لئے جب میں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے کوشش کی کہ وہ ہاتھ کو لگ جائے جب میں نے اس کو نکالا تو وہ ایک چھوٹا تھا کہ میں نے اس کو پاٹ کے کنارے کے ساتھ لگا دیا۔اتنے میں میاں شریف احمد صاحب آگئے اور انہوں نے اس چھونے کو اٹھا کر زمین پر پھینک دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے کچھ لوگوں میں کمزوری پائی جاتی ہے اور یہ کہ براز کے موقع پر ان میں سے بعض احمدیت کے مطالبات پورے نہ کر سکیں گے وہ کیڑے ثابت ہوں گے اور کیڑے بھی پاخانہ کے اور میاں شریف احمد صاحب کے اس چھونے کو نیچے پھینک دینے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ الگ کر دئیے جائیں گے یا یہ کہ وہ مٹ جائیں گے اور فنا ہو جائیں گے۔الفضل یکم مئی 1948ء صفحہ 4 459 6 مئی 1948ء ' فرمایا : آج شب میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم قادیان گئے ہیں اور ہمارے ساتھ بہت سے اور لوگ بھی ہیں جن میں بعض احمدی ہیں اور بعض دوسرے لوگ ہیں ہم قادیان میں اسی راستہ سے داخل ہوئے ہیں جو میاں بشیر احمد صاحب کے فارم کے اوپر سے ہو کر سٹیشن کی طرف جاتا ہے پھر ہم چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی کوٹھی کی طرف سے ہو کر دار الانوار والی سڑک پر سے قادیان میں اس گلی میں سے شہر میں داخل ہوئے جس گلی میں مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم کا اور بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی کا مکان ہے۔مکرم حاجی محمد الدین صاحب آف تهال حال در ویش قادیان نے بیان کیا کہ حضور نے اس رؤیا کے آخر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ جب ہم قادیان میں داخل ہونے لگے تو پولیس یا ملٹری نے ہمیں روک لیا۔حضور نے فرمایا ” روک نہیں لیا گیا روکنا چاہا کیونکہ بعد میں میں نے اپنے آپ کو قادیان کے احمدی محلہ میں دیکھا۔" الفضل 17۔جون 1950ء صفحہ 2 ا یہ رویا حضور نے قادیان جانے والے قافلے کے احباب کے سامنے رتن باغ لاہور میں 11 مئی 1948ء کو بیان فرمایا