رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 416
416 460 کیم جون 1948ء فرمایا : کل میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ فاصلہ پر کوئی شخص ہے اور وہ خوش الحانی سے کچھ شعر پڑھ رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعر میرے ہی ہیں۔اس شخص کی آواز خوب بلند اور سُریلی تھی جب میری آنکھ کھلی تو شعر تو کوئی یاد نہ رہا لیکن ان کا وزن، قافیہ اور ردیف اچھی طرح یاد تھے میں نے اس وقت ایک مصرعہ بنایا کہ وزن قافیہ اور ردیف یا د رہ جائیں اور چونکہ و زن ردیف اور قافیہ یاد تھے اس لئے اس ایک مصرعہ کی مدد سے میں نے ایک نظم تیار کی یہ نظم الفضل جون 1948ء میں شائع ہو چکی ہے) ان اشعار کا مضمون تو مجھے یاد نہیں رہا تھا اس لئے نظم کا مضمون میرے دل کا ہے لیکن خواب بظا ہر مبارک ہے۔الفضل 24۔جولائی 1948 ء صفحہ 3 جون 1948ء 461 فرمایا : جون میں جب میں ناصر آباد سندھ میں تھا تو وہاں میں نے دیکھا کہ ایک منارہ ہے بہت اونچا اور سفید۔قادیان کے منارہ کی شکل کا۔اس کی نچلی منزل کے اوپر کے چھجے پر دروازہ کے پاس میری لڑکی امتہ الجمیل بیگم سلمہا اللہ تعالی بیٹھی ہے بڑی بے تکلفی سے مجھے پر سے اس نے پیر لٹکائے ہوئے ہیں۔اتنے میں میری نظر منارہ پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ منارہ کی سب سے اوپر کی منزل یا اس سے مچلی منزل کے دروازہ میں سے ایک بہت بڑا سانپ جو کوئی فٹ ڈیڑھ فٹ موٹا اور کئی گز لمبا تھا اور اس کا رنگ سبز کی طرح کا تھا اس نے سر نکال کر مچلی منزل کی طرف اترنا شروع کیا۔پہلے اس نے سر جھکایا اور نچلی منزل کے دروازہ کی دہلیز کے ساتھ اندر کی طرف سہارا لے کر باقی دھر نیچے گر الیا اسی طرح دروازہ سے اتر تا آیا حتی کہ سب سے نچلی منزل سے اوپر کی منزل پر پہنچ گیا اور پھر اس نے مچلی منزل کی چھت کی طرف رخ کیا اس وقت یہ خیال کر کے کہ امتہ الجمیل چھجے پر دروازہ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے میرے دل میں خیال گزرا کہ ایسا نہ ہو یہ مڑکر اس کو کاٹ لے۔ساتھ ہی میں ڈرتا ہوں کہ اگر لڑکی بلی تو گر جائے گی اور اسے چوٹ لگے گی تب میں نے نہایت لجاجت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی شروع کی جس کا یہ فقرہ مجھے یاد ہے کہ اللهم أعِذْهَا لِي وَلِلْجَمَاعَةِ الْاَحْمَدِيَّةِ وَلِغُرَبَائِهَا ہمارے اللہ اس کو میری