رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 37
37 58 تمبر 1914ء فرمایا : پانچ چھ دن ہوئے کہ رویا میں مجھے ایک اور شخص دکھایا گیا ہے۔ایک مکان میں میں تسجد کی نماز پڑھ رہا ہوں میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کوئی شخص چوری کے ارادہ سے اس مکان میں داخل ہوا ہے۔میں اس خیال سے کہ وہ کوئی چیز نہ چُرا لے جلدی نماز ختم کر کے اس کی طرف بڑھا تو وہ بغیر کوئی چیز اٹھانے کے بھاگ گیا۔اس وقت اس نے چوروں کی طرح تمام کپڑے اتار کر صرف لنگوٹی باندھی ہوئی تھی۔میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ منافق ہے جو کہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے لیکن پہنچا نہیں سکے گا۔الفضل یکم اکتوبر 1914ء صفحہ 7-8 59 اکتوبر ونومبر 1914ء فرمایا : چند دنوں سے میں متواتر دیکھ رہا ہوں کہ کچھ ابتلاء آنے والے ہیں قریباً مہینہ ہونے کو ہے کہ مختلف ابتلاؤں کا مجھے پتہ بتلایا گیا ہے ان سب کا علاج صرف یہی ہے کہ استغفار کیا جائے۔الفضل 19۔نومبر 1914ء صفحہ 7 1914 60 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوا ہوں شمال کی طرف میرا منہ ہے اور جنوب کی طرف پیٹھے۔میں بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ لوگ میرے پاس آئے مجھے یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ یہ لوگ جلسہ پر آئے ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوں مہمان آئے ہیں کہ کوئی شخص چائے لایا ہے اور اس نے میرے سامنے رکھ دی ہے۔میں نے اسے کہا کہ آدمی بہت ہیں لیکن تم صرف ایک پیالی چائے لائے ہو اسے لے جاؤ اگر لانی تھی تو سب کے لئے لانی چاہئے۔جب وہ اٹھانے لگا تو ڈاکٹر عباد اللہ جو امر تسر کے ایک دوست ہیں ان کی طرف میرا خیال گیا اور اس کو میں نے کہا کہ انہیں چائے دے دو اس نے ان کے آگے رکھ دی۔چند اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں ایک شریف اللہ خاں صاحب صوابی کے ہیں وہ بھی وہیں تھے۔ایک شخص ہمارے مخالفوں میں سے بھی بیٹھا تھا۔اس ہجوم میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بیٹھے ہیں۔پھر