رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 36
36 جو مجھے یا د رہا مع کچھ زوائد کے اس مکتوب کے ذریعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس مکتوب کو بابرکت کرے اور آپ کو بہت سے لوگوں کے لئے موجب ہدایت کرے۔امِيْنَ يَارَبَّ الْعَالَمِينَ - تحفة الملوک (مکتوب جون 1914ء بنام والی حید ر آباد کن) صفحہ 3 - 4 56 14 جون 1914ء فرمایا : آج رات میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کہیں جا رہا ہوں اور بھی بہت لوگ میرے ساتھ ہیں لیکن میں ایسا تیز چل رہا ہوں کہ باقی سب لوگ میرے پیچھے رہ گئے ہیں اور میں ایک اونچی جگہ پر چڑھ رہا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیر کے لئے جا رہا ہوں۔راستہ میں بارش شروع ہو گئی ہے اس لئے میں نے واپس لوٹنے کا قصد کیا ہے تو ایک دوست اس وقت پاس پہنچ کر کہتا ہے کہ آپ اب لوٹنے لگے ہیں اس سے پہلے ہی لوٹ جاتے۔تو میں نے اس کو کہا کہ میں تو اس سے بھی آگے جایا کرتا ہوں۔وہ مقام جہاں ہم جا کر بیٹھنا چاہتے ہیں پاس ہی ہے مگر اس کی سیڑھیاں بڑی خطرناک ہیں۔ہمارے قریب ہی ایک آدمی ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے اندھا دکھایا ہے وہ سوئی پکڑے ہوئے ہے اس کے پاس ہی ایک غار ہے میں اس کو یہ کہتا رہا کہ بیچ کر چلیو۔بیچ کر چلیو۔لیکن وہ میرے کہتے کہتے ہی غار میں گر پڑا ہے اور وہیں مرگیا ہے اور کچھ لوگ اس کی لاش اٹھا کر لے گئے ہیں اور پھر ہم سب صحیح و سلامت واپس لوٹ آئے ہیں۔اس شخص کی تباہی بھی غفلت کا نتیجہ تھی۔الفضل 8۔اکتوبر 1914 ء صفحہ 10 57 ستمبر 1914ء فرمایا : ہمارے زمانہ میں بھی منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم سے جدا کر دیا ہے۔پچھلے دنوں میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا عظیم الشان مکان ہے اس میں کچھ سوراخ ہیں اور اس کی چھت میں دو تین کڑیوں کی جگہ خالی ہے مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ خالی جگہ نہیں بلکہ یہاں کے منافق ہیں۔اس کے بعد خد اتعالیٰ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو نکال دیا۔(الفضل یکم اکتوبر 1914ء صفحہ 7)