رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 399
399 سمجھتا ہوں کہ اس کی والدہ امتہ الحی مرحومہ فوت ہو چکی ہیں لیکن حضرت خلیفہ اول کے متعلق سمجھتا ہوں کہ آپ زندہ ہیں مگر یوں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لڑکی کو دیکھا ہوا نہیں۔اس وقت امتہ الحی مرحومہ کی یاد کی وجہ سے میرے دل میں کچھ رقت سی آئی ہے اور یہ مضمون میرے دل میں آتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول جو اپنی لاتیں لٹکائے بیٹھے ہیں میں اس لڑکی کو ساتھ لے کر جا کر آپ کی ٹانگوں کے درمیان پیروں میں بٹھا دوں گا اور کہوں گا کہ یہ آپ کی نواسی ہے اس کو دعا دیں۔جب میں نے لڑکی کی طرف دیکھا تو اس نے چار پائی پر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ایک رکعت اس نے کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور ایک رکعت اس نے بیٹھ کر پڑھی ہے یہ یاد نہیں رہا کہ پہلی رکعت اس نے کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور دوسری رکعت بیٹھ کر پڑھی ہے یا دوسری رکعت کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور پہلی رکعت بیٹھ کر پڑھی ہے اس وجہ سے میں نے جو ارادہ کیا تھا وہ پورا نہ کر سکا۔پھر میں اٹھ کر باہر چلا گیا وہاں کچھ لوگ مجھے ملے ہیں جو ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے فوجی ہوتے ہیں تین آدمی ہیں وہ مریم صدیقہ کے متعلق جو میری بیوی ہے کہتے ہیں کہ ان سے کہہ دینا اگر روپیہ کی ضرورت ہو تو روپیہ آگیا ہے۔اس وقت خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ میری بیوی نے اپنے پاس امانتیں رکھی ہوئی ہیں جیسے بعض لوگ دوسروں کی امانتیں اپنے پاس رکھ لیتے ہیں میں اندر گیا تو دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول چار پائی سے اتر کر زمین پر بیٹھے ہیں دری بچھی ہوئی ہے تین عورتیں آپ کے آگے بیٹھی ہیں اور آپ غالبا بخاری کا درس دے رہے ہیں ایک تو مریم صدیقہ ہے اور دوسری عورتوں کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا وہ امتہ العزیز اور امتہ القیوم ہی ہیں یا گھر کی کوئی مستورات ہیں۔میں یہ دیکھ کر ایک طرف ہو گیا کچھ دیر پڑھانے کے بعد ایک چیز سامنے لائی گئی ہے وہ چیز ایسی ہے جیسے گھاس ہوتی ہے زرد رنگ کی اور خشک گھاس ہے۔اس کی جڑ چھوٹی سی ہے مگر پودے کی جو شاخیں ہیں وہ تو نو دس دس انچ کی ہیں اور نہایت باریک ہیں ایسی باریک جیسے خس کا گھاس ہوتا ہے مگر خس کی نسبت زیادہ سخت ہے۔مریم صدیقہ ان کو نکال نکال کر حضرت خلیفہ اول کے سامنے رکھتی جاتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی حدیث کے ذکر میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی کسی کتاب کا حوالہ بھی پڑھا گیا ہے اور اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول اپنے شاگردوں کو وہ گھاس دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔اس وقت حضرت خلیفہ اول نے مریم صدیقہ اور