رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 398
398 ہے کہ بٹالہ کے پاس ان لڑکوں پر جو آئے تھے حملہ ہوا ہے وہاں سے آدمی آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ کپڑے مانگتے ہیں اور شاید چار سو کے قریب کپڑے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں اس رویا کی تصدیق ہو گئی اور خبر آئی کہ بٹالہ میں ٹرکوں پر حملہ ہو گیا ہے اور وہاں سو آدمی سے زیادہ مارا گیا ہے کچھ لڑکوں میں اور کچھ لڑکوں پر چڑھنے کی کوشش میں۔الفضل 7۔اکتوبر 1947ء صفحہ 3 اہے کچھ ٹرکوں 4۔اکتوبر 1947ء 441 فرمایا : میں نے دیکھا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب آئے ہیں اور میرے پاس آکر بیٹھ گئے ہیں انہوں نے صرف قمیض پہنی ہوئی ہے تھوڑی دیر تک انہوں نے مجھ سے باتیں کیں اور پھر یہ نظارہ غائب ہو گیا۔جو شخص قید میں ہو اس کے رہا ہونے کی دو ہی تعبیریں ہوتی ہیں یا وفات اور یا پھر واقعہ میں رہا ہو نا۔گویا اس رویا کی ایک تعبیر تو اچھی ہے اور ایک منذر الفضل 7۔اکتوبر 1947 ء صفحہ 3 442 10۔اکتوبر 1947ء فرمایا : میں نے آج رات رویا میں حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی نورالدین صاحب کو دیکھا۔ایک کمرہ ہے چھوٹے سے سائز کا ایسا جیسا 12 x 12 فٹ کا ہوتا ہے ایک طرف اس کے اندر داخل ہونے کا دروازہ ہے اور تین طرف دروازہ کوئی نہیں۔تین دیواریں ہیں جن میں سے ہر دیوار کے ساتھ ایک ایک چارپائی لگی ہوئی ہے۔میں اس چارپائی پر بیٹھا ہوں جو دروازہ کے سامنے ہے۔حضرت خلیفہ اول میرے دائیں طرف کی چارپائی پر بیٹھے ہیں اور میرے بائیں طرف کی چارپائی پر میری لڑکی امتہ القیوم بیٹھی ہیں اور میری چارپائی پر ایک طرف ہو کر ایک اور لڑکی بیٹھی ہے جو غالبا امتہ العزیز ہے۔حضرت خلیفہ اول جب گھوڑی پر سے گرے اور آپ کے سر میں زخم آیا تو وہ زخم رفتہ رفتہ ناسور کی شکل اختیار کر گیا تھا اور بہت دیر تک درست ہونے میں نہیں آیا تھا۔ان دنوں آپ ایک ٹوپی کٹوپ کی طرح پہنتے تھے تاکہ زخم ڈھکا ر ہے اسی طرح اس طرز کی ایک ٹوپی آپ نے پہنی ہوئی ہے۔اس وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں امتہ القیوم کو جو حضرت خلیفہ اول کی نواسی ہے آپ سے ملاؤں میں خواب میں اس وقت یہی