رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 397
397 کی نیت سے نہ ہو چنانچہ میں خواب میں ہی کہتا ہوں کہ میں اس بارہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور شیخ بشیر احمد صاحب سے مشورہ لے لوں۔مجھ پر اس وقت یہ بھی اثر ہے کہ مغربی پنجاب کی حکومت کے بعض افراد اور مسٹر لیاقت علی خان بھی اس مشورہ میں شامل ہوں گے۔الفضل یکم اکتوبر 1947ء صفحہ 1 439 ستمبر 1947ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں مسجد اقصیٰ کے شمالی طرف پرانے بازار کے اس حصہ کی طرف گیا ہوں جہاں چوک ہے اور جس میں ہندو حلوائیوں کی دکانیں ہیں اس وقت مجھے خیال ہے کہ گھر کی کچھ مستورات اور بچے میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں اس چوک میں کھڑا ہو کر ان کا انتظار کرنے لگا ہوں۔اس وقت میں نے دیکھا کہ ایک دو سکھ چوک کے مشرقی حصہ سے اس طرف کو گئے ہیں جدھر سے مستورات اور بچوں کا انتظار ہے۔ان کو دیکھ کر مستورات اور بچے چوک کے کنوئیں کے مغرب کی طرف چلے تا وہ سکھ ان کا راستہ نہ روکیں جب وہ ادھر چلے تو ایک سکھ ادھر کو بھی چلا جسے دیکھ کر مستورات اور بچے جنوب کی طرف مڑگئے۔میں اس خیال سے کہ یہ لوگ راستہ نہ بھول جائیں کنوئیں کے اوپر یعنی مغرب کی طرف سے ان کی طرف چلا مگر ان کو نہ دیکھا اور مسجد اقصیٰ کی طرف چل پڑا جب میں مسجد اقصیٰ کی طرف مڑا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب لوگ مسجد اقصیٰ کے اندر ایک مینار کی چوٹی پر کھڑے ہیں لیکن اس مینار کی جگہ موجودہ مینار سے مختلف ہے وہ مسجد کی مستقف عمارت کے جنوب کی طرف ہے اور وہ بہت ہی بلند مینار ہے جس طرح قطب صاحب کی لاٹ ہے۔یہ رویا اپنے اند ر بشارت کا پہلو رکھتی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات خواہ بظاہر کیسے ہی خطرناک ہوں خدا تعالٰی موجود مینار سے زیادہ شاندار مینار عطا فرمائے گا اور ہماری طاقت اور قوت میں اضافہ فرمائے گا۔یکم اکتوبر 1947ء صفحہ 2-1 4۔اکتوبر 1947ء 440 فرمایا : آج صبح میں نے خواب میں دیکھا کہ میاں بشیر احمد صاحب آئے ہیں اور انہوں نے کہا