رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 394

394 کے والد نے ان سے کہا۔بیٹا دہلی کا سارا علم تو پنجاب لے گیا ہے اب میں تم پر تب خوش ہوں گا۔جب تم یہ خلافت پھر دہلی میں واپس لے آؤ۔چنانچہ حضرت خواجہ نظام الدین صاحب پاک نین آئے اور حضرت غلام فرید صاحب شکر گنج سے علم حاصل کر کے ایسے مقام پر پہنچ گئے کہ انہوں نے خرقہ خلافت ان کو پہنایا اور پھر وہ واپس دہلی چلے گئے جہاں انہوں نے اسلام کا جھنڈا گاڑا غرض حضرت خواجہ غلام فرید صاحب شکر گنج والے بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ہمارے ملک میں جب لوگ کسی کا نام غلام فرید رکھتے ہیں تو ان کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ یہ بچہ حضرت خواجہ فرید الدین صاحب شکر گئج کا غلام ہے۔لیکن ایک موحد شخص جب اپنے بچے کا نام غلام فرید رکھتا ہے تو اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ فرید معنی منفرد یعنی احد کا غلام یا دوسرے لفظوں میں اس کا نام غلام اللہ اور اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی ذات سے کون اعلیٰ اور ارفع ہو سکتا ہے جس کی طرف ایسا نام منسوب کیا جائے پس خواب میں جو ملک غلام فرید صاحب کا ذکر آیا ہے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ غلام فرید سے مراد غلام اللہ یا عبد اللہ ہے یعنی ایسا انسان جو خدا تعالٰی کی تو حید پر کامل ایمان رکھتا ہو اور وہ صحیح معنوں میں موقد ہو اور وہ مولوی سید سرور شاہ صاحب کے داماد کو سمجھا رہا ہے کہ تمہارے اندر فلاں عیب ہے یا فلاں غلطی ہے۔تمہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے گویا وہ اس کو نصیحت کر رہا ہے۔پھر اس خواب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کا سلوک کمزوروں اور ماتحتوں سے اچھا نہیں اسی طرح اس رویا کے الفاظ سے یہ بھی ایک سبق حاصل ہوتا ہے کہ انسان اگر دنیا کے لوگوں کے ساتھ صلح بھی کرلے تو یہ اس کی نفس پرستی ہوگی اور اس کا صلح کرنا اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنا ہو گا۔فرمایا : مولوی سید سرور شاہ صاحب کی یوں تو بہت سی بیٹیاں تھیں مگر اس وقت ان کی صرف ایک بیٹی زندہ ہے باقی فوت ہو چکی ہیں وہ لڑکی جو زندہ ہے وہ میاں عبد اللہ خان صاحب افغان کے بیٹے عبدالرحیم صاحب سے بیاہی ہوئی ہے کہ رؤیا انہی کے متعلق ہے۔الفضل 3۔اگست 1951ء صفحه 5 11/10۔اگست 1947ء 431 فرمایا : دیکھا کہ ایک مجلس میں کچھ آدمی بیٹھے ہیں ایک چارپائی بچھائی گئی جس پر ایک طرف