رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 395

395 میں بیٹھا درمیان میں کوئی اور شخص جس کا نام یاد نہیں اور پھر ایک نوجوان۔میں نے نام پوچھا تو اس نے یا کسی اور نے کہا۔”غلام احمد عطاء" الفضل 18 اگست 1947ء صفحه 1 12۔اگست 1947ء 432 فرمایا : آج صبح جب تہجد کی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس کی پہلی رکعت میں ہی مجھے اللہ تعالی کی طرف سے آواز آئی ”مولوی رحمت علی آئے ہیں “ الفضل 18 اگست 1947ء صفحہ 1 12۔اگست 1947ء 433 فرمایا : آج صبح کی نماز پڑھا کر جب میں گھر گیا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ میرے سر کی طرف ایک فون پڑا ہے جو باوجود میرے پیچھے ہونے کے مجھے نظر آ رہا ہے اس میں کوئی شخص بات کرنا چاہتا ہے۔مجھے گھنٹی کی آواز نہیں آئی۔میری ایک لڑکی نے ریسیور اٹھا کر اسے کان سے لگایا اور آواز سنی تو خوش ہو کر کہنے لگی " آہاہا۔ابا جان "۔الفضل 18 - اگست 1947ء صفحہ 2-1 12۔اگست 1947ء 434 فرمایا : آج عصر کے بعد مجھے الہام ہوا کہ اَینَمَا تَكُونُو آيَاتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا اس الہام میں تبشیر کا پہلو بھی ہے اور انذار کا بھی۔تفرقہ تو ایک رنگ میں پہلے ہو گیا ہے یعنی ہماری کچھ جماعتیں پاکستان کی طرف چلی گئیں اور کچھ ہندوستان کی طرف۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کے اکٹھا ہونے کی کوئی صورت پیدا کر دے اگر ہمارا قادیان ہندوستان کی طرف چلا جاوے تو اکثر جماعتیں ہم سے کٹ جاتی ہیں کیونکہ ہماری جماعتوں کی اکثریت مغربی پنجاب میں ہے۔الفضل 18۔اگست 1947 ء صفحہ 2۔الفضل 3 فروری 1948ء صفحہ 4 435 17۔اگست 1947ء فرمایا : ہمیں چونکہ بہتر پاکستان ہی نظر آتا تھا اس لئے ہم پاکستان میں شمولیت کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ان دعاؤں کے دنوں میں میں نے جب کبھی کشفی نظارے دیکھے وہ یہی تھے کہ کبھی