رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 390
390 جسم کینوس کے اوپر آجانے سے ڈھانپا گیا میں نے دیکھا کہ آگے ساری چھت پر ہندو بیٹھے ہیں ان کو دیکھ کر میں اپنے دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ اچھی محفوظ جگہ ہے جن کی طرف سے ہمیں کسی الزام کا خطرہ ہو سکتا ہے وہ لوگ یہاں موجود ہیں اتنے میں وہ افسر جو نیچے دروازہ کی طرف آئے تھے مکان کے پچھواڑے کی طرف سے آتے ہیں اور نیچے سے آواز دے کر پوچھتے ہیں کہ یہاں کوئی مسلمان ہیں یا نہیں یا وہ ہمارے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ یہاں ہے یا نہیں۔ان افسروں نے جب یہ سوال کیا کہ مسلمان اندر ہیں یا نہیں تو میں نے دیکھا کہ چھت پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں نے ہندوؤں سے اتنی لجاجت کی کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں وہ بار بار کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کا صدقہ اپنی جوتیوں کا صدقہ ہمارا نام نہ لینا۔جس شخص کا وہ گھر ہے (ان کا نام تو میں جانتا ہوں وہ ایک بڑے لیڈر ہیں مگر اس وقت میں ان کا نام بتا نا مناسب نہیں سمجھتا) ان کی بیوی تو فوت ہو چکی ہے مگر خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ زندہ ہے اور وہ بھی تاکید کرتی ہے کہ مسلمانوں کا نام نہ لیا جائے یہ ہمارے مہمان ہیں اتنے میں پھر ان افسروں نے وہی سوال کیا کہ مسلمان اندر ہیں یا نہیں اس پر ان سینکڑوں ہندوؤں نے زور سے اپنی انگلیاں بہلانی شروع کیں جس کا مطلب یہ تھا کہ یہاں کوئی مسلمان نہیں۔فرمایا : اس خواب سے میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے ابھی کچھ مزید ابتلاء باقی ہے۔یوں تو ان کی تسلی ہو چکی ہے کہ ان کے مطالبات مان لئے گئے ہیں اور گورنمنٹ نے ان کا حق انہیں دلا دیا ہے مگر میرے نزدیک ابھی کچھ ابتلاء ان کے لئے مقدر ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی افسر ابھی تک مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ہندوؤں کے حق میں ہیں اور یہ جو سمجھا جا رہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑے تھے ان کا فیصلہ ہو گیا ہے میرے نزدیک ابھی پوری طرح اس کا فیصلہ نہیں ہوا۔ابھی مسلمانوں کے لئے کچھ اور مشکلات بھی ہیں۔الفضل 25۔جون 1947ء صفحہ 2۔1 21 جون 1947ء 429 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ جیسے میں اپنے دفتر میں ہوں اور نیچے سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب کی آوازیں آرہی ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے