رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 385
385 میں ایک چارپائی پہ بیٹھا ہوں اس وقت ایک سکھ مجھے ملنے کے لئے آیا اور خواب میں سمجھتا ہوں کہ وہ مجھ سے کسی امداد کا طلبگار ہے میری چارپائی کے پاس ہی ایک خالی کرسی پڑی ہوئی ہے اس پر وہ سکھ بیٹھ گیا اور اس نے ذکر کیا کہ سردار سند سنگھ صاحب مجیٹھہ والے نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔خواب میں بھی اس کی اس بات پر حیران ہو تا ہوں کہ سردار سندر سنگھ مجیٹھے والے تو فوت ہو چکے ہیں انہوں نے اس کو کس طرح بھیجا ہے یوں میں ان سے اچھی طرح واقف تھا وہ وزیر بھی رہے اور ان کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن کے متعلق کوئی بات چیت ہے اور ہم سے مدد مانگی جارہی ہے۔( مجیٹھہ امرتسر کے علاقہ میں ہے لیکن جب سردار سندر سنگھ صاحب ممبرنی کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ امر تسر کے علاقہ میں نہیں بلکہ بٹالہ کے علاقہ میں کھڑے ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو اپنے علاقہ میں کامیابی کی امید نہ تھی اور وہ بٹالہ کے علاقہ میں اس لئے کھڑے ہوئے تھے کہ ہمارے ساتھ ان کے تعلقات تھے اور ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے چیفس کالج میں ہم جماعت بھی رہ چکے تھے اور چونکہ بٹالہ کے علاقہ میں ہمارا اثر کافی تھا اس لئے وہ اسی حلقہ سے کھڑے ہوئے۔) اس سکھ نے مجھے کہا کہ مجھے سردار سندر سنگھ مجیٹھہ والے نے آپ کے پاس امداد کے لئے بھیجا ہے کیا آپ کچھ امداد کریں گے میں نے کہا ہاں جب سردار صاحب پہلے کھڑے ہوئے تھے تو ہم نے ان کی امداد کی تھی اور وہ کامیاب بھی ہو گئے تھے پھر ان کے بیٹے سردار کرپال سنگھ صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے خط لکھا کہ کیا آپ ہماری مدد کریں گے میں ان دنوں سندھ میں تھا میں نے انہیں جواب میں لکھا کہ ہم آپ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن جب میں قادیان واپس آیا تو ان کا کوئی آدمی مدد لینے کے لئے میرے پاس نہ پہنچا اور وہ کامیاب نہ ہو سکے اس پر میں نے انہیں خط لکھا کہ ہم تو آپ کی مدد کے لئے تیار تھے مگر آپ نے اپنا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ بھیجا۔اس کے جواب میں ان کا پیغام آیا کہ ہاں آپ نے تو مدد کا وعدہ کر دیا تھا مگر افسوس ہے کہ بعض وجوہات کی بناء پر میں آپ سے مدد نہ طلب کر سکا۔چنانچہ ایک وجہ انہوں نے یہ لکھی کہ مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ اگر آپ نے احمدیوں سے مدد لی تو ہندو اور سکھ آپ کا ساتھ نہ دیں گے۔وہ ناراض ہو جائیں گے اس لئے میں نے آپ کو مدد کے لئے نہ لکھا اب میں پچھتا رہا ہوں