رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 383

383 ہے کہ کھیعص میں میرا بھی ذکر ہے اور چونکہ میرا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا کام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مثیل مسیح ناصری ہیں اس لئے در حقیقت ان حروف مقطعات میں میرا ذ کر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ کھیعص میں مسیحیت کا ذکر ہے اور جب اس میں پہلی مسیحیت کا ذکر ہے تو لازماً اس میں دوسرے مسیح کا ذکر بھی ہو گا۔الفضل 30 اپريل 1947 ء ص 3 تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 116 423 20۔اپریل 1947ء فرمایا : تحمل صبح نماز کے وقت جب میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر یہ عربی کا مصرع جاری ہوا که فَإِنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حَقٌّ فَأَظْهِرٍ - فَأَظْهِر اصل میں فَأَظْهِرُ ہے جو بوجہ وقف کے متحرک کیا گیا ہے اور فاظھر کے معنی ہیں غالب کر کیونکہ أَظْهَرَ عَلَى عَدُوّہ کے معنی دشمن پر غالب کرنے کے ہوتے ہیں اللہ تعالٰی نے فَإِنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حَقٌّ فاظھر میں حق کو ٹکرہ بیان فرمایا۔تنوین کے کئی معنی ہوتے ہیں تنوین تعظیم کے لئے بھی آتی ہے اور تحقیر کے لئے بھی۔پس حق کے معنے کچھ حق بھی ہو سکتے ہیں اور بہت بڑے حق کے بھی پس اگر حق کے معنے تحقیر کے کئے جائیں تو اسلام سے اشارہ اس وقت کے مسلمانوں کے اسلام کی طرف ہو گا اور مراد یہ ہوگی کہ مسلمان خواہ اسلام سے کتنی دور جا پڑے ہوں مگر دعوئی اسلام میں ذرا بھی صداقت ہو تو اس کی صداقت کی خاطر ان کو غلبہ دے اور ان کو مغلوب ہونے کا جو خطرہ ہے اس سے اسے محفوظ رکھ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں خود اس دعا کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اے خدا اسلام کو لوگوں نے خواہ کتنا ہی بگاڑ دیا ہے اور اسلام کے مسائل کو کتنا ہی مروڑ دیا ہے۔اور اسلام کے اندر کتنے ہی رخنے واقع ہو چکے ہیں پھر بھی اے خدا اگر اسلام کے اندر کچھ بھی سچائی موجود ہے تو یہ مستحق ہے اس بات کا کہ اس کو دوسرے تمام ادیان پر غلبہ عطا فرمایا جائے اور اسلام کے خلاف دوسرے ادیان باطلہ کی جو جد وجہد شروع ہے اس کو ناکام فرمایا جائے اور اسلام کی فوقیت کو ظاہر فرمایا جائے۔الفضل 11 - جون 1947ء صفحہ 1