رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 382

382 بڑھ گیا اور اس ہجوم کو دیکھتا چلا جاتا ہوں اس وقت مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا مکان کئی فرلانگ لمبا ہے اور کچھ دور جا کر میں واپس لوٹا۔واپسی پر مجھے ایک فقیر ملا اس نے ایک لمبا سا چغہ نیلے رنگ کا پہن رکھا تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کچھ گستاخانہ الفاظ کہے۔میں نے وہ الفاظ سن کر اس کا کان پکڑ لیا اور کہا تمہاری یہ بات ایسی نا پسندیدہ ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے نہیں ایک عیسائی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ہندوستانی کی حیثیت سے مجھے یوں معلوم ہو رہا ہے کہ تم نے ان الفاظ سے ہندوستان کی ہتک کی ہے اور تم نے یہ نہایت ذلیل حرکت کی ہے وہ فقیر یوں تو بڑا قوی آدمی معلوم ہوتا ہے مگر جب میں نے اس کا کان ذرا سا مروڑا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے اسکو بجلی کے کرنٹ کی طاقت کا دھکالگا اور وہ زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا اور اس کے بعد کسی اور شخص نے مجھے پانی لا کر دیا یا میں نے خود پانی منگوایا اور اس کے منہ میں ڈالا تو وہ ہوش میں آگیا۔پاس ہی کوئی شخص اس سے کہتا ہے کہ اب تو پاک پانی تمہارے منہ میں ڈالا گیا ہے اس لئے اب تم شدھ ہو گئے ہو اس کے جواب میں وہ فقیر کہتا ہے ایسے پانی میں نے کئی دیکھے ہیں گویا اس کی شرارت کی روح ابھی تک باقی ہے اس کے بعد میں واپس اس طرف چلا آیا جدھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے تھے لیکن جب میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے جاچکے ہیں۔فرمایا : شدھ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہندوؤں کی طرف اشارہ ہے اور پھر رویا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض لوگ بلاوجہ مخالفت کریں گے رویا میں اس شخص کا مذہب تو نہیں سمجھ سکا مگر میں نے جو اس سے یہ کہا کہ چاہے تمہارا کوئی مذہب ہو مگر ایک ہندوستانی کی حیثیت سے تم نے یہ نہایت ہتک آمیز الفاظ کے ہیں اور تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نہیں ملک کی ہتک کی ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ بعض اخلاقی جرائم ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق کسی خاص مذہب یا فرقہ سے نہیں ہو تا۔الفضل 21۔جون 1947 ء صفحہ 2۔1 غالبا 1947ء 422 فرمایا : میں ایک دفعہ سندھ سے آرہا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ کسی نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم میں کھیعص آتا ہے ان حروف مقطعات میں تمہارا بھی ذکر ہے۔گویا مجھے بتایا گیا