رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 362

362 ذہن میں آیا کہ بنے ہیں زمیں آسماں کیسے کیسے یعنی کیسے کیسے بلند شان والے بادشاہ جو آسمان کی طرح بلند شان تھے خدا تعالیٰ نے زمین کی طرح ہموار کر دیئے اور آسمان ہونے کے بعد انہیں زمین کی طرح کر دیا۔اس گفتگو کے دوران میں خان میر صاحب جو پہریدار ہیں مسجد کی کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے بولے۔انہوں نے جوش سے کہنا شروع کیا دو پٹھان پہرہ دار مارے گئے ہیں اس کا کچھ انتظام ہونا چاہیئے ورنہ ہمارے لئے مشکل ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ الزام احمدیوں کے بارے میں ہے کہ احمدیوں نے پٹھانوں کو مارا ہے میر محمد اسماعیل صاحب نے ان کو خاموش کرانے کے لئے کہا کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں۔مگر مجھے خان میر کا احمدیوں پر اس طرح الزام لگانا برا معلوم ہوا اور میں نے کہا کہ آج ان کی جگہ کوئی ہندوستانی پہریدار مقرر کر دیا جائے (تا ان کی جان خطرہ میں نہ پڑے ) وہ عید الاضحیہ کا دن معلوم ہوتا ہے۔میں نماز کے لئے اٹھا ہوں اور اس کمرے میں گیا ہوں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بیٹھا کرتے تھے وہاں میاں بشیر احمد صاحب بھی موجود ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گاندھی جی بھی بطور مہمان آئے ہوئے ہیں۔میں میاں بشیر احمد صاحب سے کہتا ہوں کہ گاندھی جی کی حفاظت کے لئے پہریداروں کا انتظام کریں اور تاکید کرتا ہوں کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔ابھی انتظام کر دیتا ہوں۔میں نے پھر اس بات پر زور دیا کہ دیکھیں عورتوں سے بھی زیادہ ان کی حفاظت کی جائے۔انہوں نے یہ سن کر تعجب سے کہا عورتوں سے بھی زیادہ۔میں نے کہا ہاں وہ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔جب آنکھ کھلی اور میں خواب کے اس حصے پر غور کرنے لگا کہ اگر مجھے قید کیا گیا تو جیل میں پہلی رات میں جو مجھے آئے گی اس میں خدائی قہر سے ہندوستان کے بڑے افسر بھی مر جائیں گے اور انگلستان کے بڑے افسر بھی مر جائیں گے تو ابھی اس پر ایک منٹ بھی پورا نہ گزرا تھا کہ یکدم زلزلہ کے دو جھٹکے آئے (اس وقت عین بارہ بجے کا وقت تھا میں نے گھر والوں کو جگا کرتا یا تو پہلے تو انہوں نے کہا کہ یہ وہم ہی نہ ہو مگر میں نے کہا وہم نہیں۔بلکہ میں جاگ رہا تھا جب زلزلے کے جھٹکے آئے پہلے شمال کی طرف والا دروازہ ہلا پھر جنوب والا دروازہ ہلا تب انہوں نے کہا۔ٹھیک