رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 357

357 فرمایا : بظاہر یہ خواب دیر بعد کے حالات کے متعلق ہے مگر ممکن ہے جلد ہی اس کے مطابق حالات ظاہر ہوں۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّواب۔الفضل 4- نومبر 1948ء صفحہ 3-2 یکم نومبر 1946ء 410 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ عید کا دن آگیا ہے اور ہم عید کی نماز پڑھنے عید گاہ کو جار ہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دن گورنمنٹ کی طرف سے راستوں پر چلنے کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔قادیان کے درمیان ایک بڑی بھاری چوڑی سڑک ہے میں اس پر سے گزر رہا ہوں ایک آدمی میرے آگے آگے چل رہا ہے اور کچھ آدمی میرے پیچھے آرہے ہیں میں بیچ میں اکیلا چل رہا ہوں۔ہم ایک جگہ پہنچے ہیں تو آواز آئی یہاں سے نہیں چلنا۔کوئی دوسرا آدمی کہتا ہے کہ میں اس کے متعلق افسروں سے بات چیت کر آیا ہوں ہم نے یہاں سے ہی جانا ہے وہ سپاہی کہتا ہے نہیں جانا۔وہاں کوئی سپر نٹنڈنٹ پولیس یا کوئی بڑا افسر ہے وہ کہتا ہے جانے دوان کو اجازت مل گئی ہے آگے جانے والے نے کہا ہم کو الفضل تک جانے کی اجازت ہے۔گویا اس نے اس سڑک کے ایک حصہ کا نام الفضل رکھا ہے۔وہاں سے چل کر ہم عید گاہ میں پہنچے عید کی نماز کا وقت عموماً نو بجے کا ہوتا ہے جب دو نیزے کے قریب سورج چڑھ آتا ہے عید الفطر ذرا دیر سے پڑھی جاتی ہے مگر عید الاضحیہ جلدی پڑھ لی جاتی ہے تاکہ لوگ جا کر قربانی کر سکیں۔اس وقت وہ جگہ جہاں ہم پہنچے ہیں ایک ٹیلے پر معلوم ہوتی ہے اس سے نیچے ڈھلوان ہوتی چلی جاتی ہے اور آگے جا کر میدان آجاتا ہے میں نے دیکھا کہ ایک جگہ وہاں صفیں بھی بچھی ہوئی ہیں ، چٹائیاں بھی بچھی ہوئی ہیں، دریاں بھی بچھی ہوئی ہیں اور آگے امام کا مصلی بھی ہے۔تھوڑے سے آدمی وہاں پہنچ چکے ہیں اور کچھ لوگ آرہے ہیں اس وقت حالا نکہ نو بجنے والے ہیں اچھی تاریکی سی معلوم ہوتی ہے خیال کرتا ہوں کہ شاید یہ بادلوں کی تاریکی ہے یا کچھ دھوئیں وغیرہ کی وجہ سے اندھیرا سا ہے مگر پھر دل میں ہی کہتا ہوں کہ بادلوں کی تاریکی اتنی تو نہیں ہو سکتی اور دن کے وقت اگر بادل بھی ہوں تو معمولی سا اندھیرا ہوتا اور روشنی کافی ہوتی ہے۔اس وقت روشنی بہت دھندلی سی ہے میں مصلی پر بیٹھ گیا ہوں اتنے میں آواز آئی سانپ سانپ سانپ۔یوں معلوم ہوتا