رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 353

353 رہے و فا و صداقت پہ میرا پاؤں مدام قرآن کریم میں بھی قَدَمَ صِدْقٍ کے الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں۔جب کسی چیز کے قیام اور اس کے دوام کا اظہار کرنا ہو تو قَدَمَ صِدق کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے گویا مطلب یہ ہوا کہ ہمیشہ ہمیش رہنے والی سچائی یا ہمیشہ ہمیش رہنے والی برکت۔اسی قرآنی مفہوم پر مجھے یہ مصرعہ سکھایا گیا کہ رہے و فا و صداقت یہ میرا پاؤں مدام یعنی میرا قدم وفاء صداقت سے کبھی منحرف نہ ہو اور میں ہمیشہ اس پر قائم رہوں بعد میں میں نے سوچا کہ اس مصرعہ کے ساتھ دوسرا مصرعہ لگا کر شعر کو مکمل کر دیا جائے اس قافیہ میں الفاظ بہت کم ملتے ہیں اور اس ردیف پر غزل کہنا مشکل نظر آتی ہے یوں تو پاؤں کے مقابل پر جفاؤں " کا لفظ بھی استعمال ہو سکتا ہے مگر اس قافیہ کے ساتھ "جفاؤں " کی بجائے "جفائیں" لکھنا پڑے گا بہر حال میں نے ایک مصرعہ اس کے ساتھ لگا دیا اور میں نے دوسرا مصرعہ یوں بنایا که ہو میرے سر پہ مری جان تیری چھاؤں مدام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ یہ مصرعہ بنایا کہ ہراک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے ابھی آپ نے دوسرا مصرعہ نہیں بنایا تھا کہ یکدم الہام ہوا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اسی طرح میں نے اس الہامی مصرعہ پر اپنا مصرعہ لگایا اور اس طرح شعر یوں ہو گیا کہ رہے وفا و صداقت پہ میرا پاؤں مدام ہو میرے سر پر مری جان تیری چھاؤں مدام خواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دعا سکھائی جاتی ہے صلحاء کا اس کے متعلق یہ تجربہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ ایسی دعا ضرور پوری ہوتی ہے ور نہ وہ ایسی دعانہ سکھائے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنے بندے کو خود ایک دعا سکھائے اور پھر اسے پورا نہ کرے۔الفضل 4۔نومبر1946ء صفحہ2 -1