رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 347

347 حضرت ابو بکر کو تھیں چالیس سال سے معلوم تھا مگر باوجود تمیں چالیس سال سے معلوم ہونے کے وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے معلوم کر کے فور آفائدہ اٹھا لیا اور جھٹ اس سے نتیجہ اخذ کر کے اپنی مشکل حل کرلی۔الفضل 31 اکتوبر 1946ء صفحہ 2۔1۔نیز دیکھیں۔الفضل 6 نومبر 1946 ء صفحہ 4 اکتوبر 1946ء 403 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک جگہ ہے جہاں ام طاہر ایک چارپائی پر لیٹی ہوئی ہیں۔چار پائی شمالاً جنوبا بچھی ہوئی ہے۔ام طاہر کا سر جنوب کی طرف ہے اور پاؤں شمال کی طرف۔ان کے سامنے ایک اور چار پائی پر میری لڑکی امتہ الحکیم ( آج کل اس کے رخصتانہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اس نے اپنی شادی کے سامان میں کچھ کمی محسوس کرتے ہوئے کسی چیز کی مجھ سے خواہش ظاہر کی ہے مگر میں نے اس کی خواہش کو پورا کرنے سے گریز کیا ہے۔اس پر اس نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ مجھے اس بارے میں کہیں۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس کی یہ خواہش پوری کر دیں۔میں نے کہا کہ جب آپ سفارش کرتی ہیں تو میں کر دوں گا۔میں جہاں کھڑا تھا وہیں ٹھرا رہا۔آگے نہیں بڑھا مگر وہیں کھڑے کھڑے میں نے ام طاہر کو مخاطب کرتے ہوئے غالب کا یہ شعر پڑھا۔کاوے کا وے سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا اس پر میری آنکھ کھل گئی۔بعد میں میں نے اپنی ان بیوی سے جو اس وقت میرے کمرے میں تھیں اس خواب کا ذکر کیا اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے لڑکی کی خواہش ہے اس کا پتہ لگاؤ۔اس شادی کا انتظام میں نے اپنی بڑی لڑکی ناصرہ بیگم کے سپرد کیا ہوا ہے چنانچہ وہلی سے آنے پر انہوں نے ام متین کی معرفت مجھے کہلا بھیجا کہ میں نے اپنی طرف سے آپ کی دی ہوئی رقم میں سب کام پورا کرنے کی کوشش کی لیکن باوجود کوشش کے وہ نہیں ہو سکا۔ابھی کچھ اشیاء تیار کرنی ہیں اس لئے گو مجھے کہتے شرم آتی ہے مگر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کچھ روپیہ اور دے دیں اس پر میں نے پہلے ام متین سے کہا۔انہیں کہو کہ میں نے تو روپیہ دیتے وقت یہ ہدایت کی تھی اس روپیہ میں سے تمام اخراجات کو