رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 335

335 ان پر اثر نہیں۔اتنے میں پیچھے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے میرے ہاتھ میں ایک کاغذ دیا اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں کسی حکومت کے عہدہ پر مامور ہوں اور یہ کوئی حکومتی دستاویز ہے جو میرے ہاتھ میں دی گئی ہے۔میں نے وہ کاغذ لے کر کھولا اور اس کو پڑھنا شروع کیا اور ساتھ ہی مسجد کے دو سرے کنارہ کی طرف چلتا بھی گیا اور ساتھ ہی ساتھ میرے ذہن میں اس بات پر بھی حیرت پیدا ہوئی کہ اتنا لمبا تیرنے کے بعد ہمارے کپڑے کس طرح خشک رہے ہیں۔اس وقت مجھے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہم یا مسجد میں رہتے ہیں یا مسجد کے ساتھ کسی حجرہ میں رہتے ہیں۔میں وہ کاغذ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر چل رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔تعبیر : اس خواب میں جو جھیل والا حصہ ہے وہ پہلے خواب سے ملتا ہے مسجد سے مراد دین ہوتا ہے۔اسی طرح مسجد سے مراد مذ ہبی جماعت بھی ہوتی ہے۔میں نے جو پہلی خواب میں دیکھا تھا کہ نپولین کی سی کیفیت ہے وہ واقعہ تاریخوں میں یوں لکھا ہے کہ نپولین جب مصر میں آیا اس وقت وہ مسلمانوں کے اثر سے مسلمان ہو گیا۔ان ایام میں اس کے دل میں خیال آیا کہ میں بحرہ احمر کی وہ جگہ بھی دیکھوں جہاں سے بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام گزرے تھے اور فرعون غرق ہوا تھا۔جب وہ سمندر کے کنارے پر پہنچا تو اس وقت بھی اتفاق کر پیچھے گئی ہوئی تھی اس نے اپنے ساتھیوں سمیت ریت میں گھوڑے ڈال دیئے اور دور تک سیر کرتا ہوا نکل گیا اتنے میں یکدم لہر کے لوٹنے کا وقت آگیا اور ہر لوٹ آئی نپولین اور اس کے ساتھیوں نے جلدی سے کنارے تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن ریت کی وجہ سے کنارے کو نہ پاسکے۔اور تمام علاقہ میں پانی ہی پانی ہو گیا اس وقت اندھیرا ہو رہا تھا اور خشکی کی طرف کا معلوم کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔بالکل ممکن تھا کہ وہ لوگ بجائے خشکی کے سمندر کی طرف چلے جاتے اور ڈوب جاتے تب نپولین نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ ایک مربع کی صورت میں صفیں بنالیں اور چاروں جہت کی صفیں اپنی اپنی جہت کو روانہ ہونی شروع ہو جائیں۔جس کے سامنے پانی چھوٹا ہو تا چلا جائے وہ دوسروں کو آواز دیتی چلی جائے اور جن کی جہت میں پانی گہرا ہو تا چلا جائے وہ دوسروں کو اس طرف سے ہو شیار کرتی جائیں اور خود واپس لوٹ آئیں اس طرح سمندر کی گہرائیوں سے بچتے بچتے بڑی مشکل سے وہ لوگ کنارہ پر پہنچے۔نپولین اس محنت سے اور اس واقعہ کے ہول سے اس قدر متاثر ہوا کہ تھک کر ریت پر لیٹ گیا اور وہاں لیٹے ہوئے اس نے کہا ”اگر آج میں یہاں