رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 331
331 نہیں کیا وہ امریکہ کی حکومت ہے اور وہ درمیان میں کھڑا ہوا شیر جس کی شکل ریچھ کی سی ہے وہ روس ہے یعنی ہم سمجھتے تو اس کو شیر ہیں گویا اس نے اپنی جنس بدلی ہوئی ہے مگر ہے وہ وہی پرانا روس۔وہی امنگیں اور وہی آرزوئیں اور وہی ارادے اس کے ہیں جو زار روس کے وقت میں تھے صرف اتنی بات ہے کہ اس نے اپنا نام بدل لیا ہے اور شیر کہلانے لگ گیا ہے۔جس شخص نے مجھے اشارے کئے ہیں کہ تم بھی حملہ کرو اس کے معنے یہ ہیں کہ انگریزی حکومت اس بات کی محتاج ہے کہ دوسروں کی تائید کے ساتھ وہ روس کا مقابلہ کر سکے۔اور جو میں نے چار نمبر کے کارتوس سے اس پر فائر کیا ہے میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ جتنی دعاؤں اور جتنی گریہ زاری کی اس فتنہ کے دبانے کے لئے ضرورت ہے وہ ہم نہیں کر رہے بلکہ جس کام کے لئے گولی کی ضرورت ہے ہم نمبر 4 کا چھرہ اس کے لئے استعمال کر رہے ہیں مگر یہ جو میں نے دیکھا کہ میرے فائز پر وہ بھاگ پڑا ہے میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ہماری دعاؤں سے اس کے اندر ایک ایسی حرکت ضرور پیدا ہو جائے گی کہ وہ نمایاں طور پر دنیا کے سامنے آجائے گا اور دنیا کا نشانہ بننے کے لئے تیار ہو جائے گا اور یہ جو میں نے دیکھا کہ وہ مکان کے اوپر سے چکر لگا کر اسی طرف کو نکل رہا ہے جدھر اشارہ کرنے والا شخص تھا اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ وہ انگریزی علاقوں کی طرف رخ کرے گا اور پھر جو میں نے حملہ کیا اور باوجود اس کے کہ اس کے پیٹ کے اندر چھرے چلے گئے اور پھر بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے کہا ابھی میرے لئے موت مقدر نہیں۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ کمیونزم کو ڈھیل دی جائے گی اور وہ دنیا میں کچھ نفوذ پیدا کرے گا اور یہ جو میں نے دیکھا کہ اس کو کچھ روپے دیئے ہیں میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ بعض اسلامی ممالک سے وہ فائدہ اٹھائے گا۔الفضل 23 اگست 1946 ء صفحه 1 تا 3 396 اگست 1946ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں چند دوستوں کے ساتھ ایک جگہ پر ہوں جو قادیان کے مغرب کی طرف معلوم ہوتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری وہاں کچھ زمینیں ہیں اور کچھ سیرگاہ ہے۔ہم وہاں سیر کے لئے گئے ہیں۔میں نے دیکھا کہ ایک کھلا جو ہر ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔اس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا ہے کہ ہم نہائیں اور میں اس جوہڑ میں کو دگیا۔میرے ساتھ