رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 329
329 میں نے اشارہ کیا کہ وہ کارتوس مجھے نکال کر دیں۔انہوں نے کارتوس نکالنے شروع کئے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ کارتوس پیٹی میں پھنسے ہوئے ہیں جلدی سے نکلتے نہیں میں نے پیٹی پر جھپٹا مار کر اپنے ہاتھ سے دو کارتوس نکالے اور بندوق میں ڈال دیئے اس وقت میں نے کارتوس دیکھے تو میں نے یا میاں خان میر صاحب نے کہا کہ "کار توس تو صرف نمبر 4 کے ہیں جن سے پرندے تو مرسکتے ہیں لیکن شیر کا مرنا نا ممکن ہے"۔اس پر مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہم نے بڑے کارتوس کیوں اپنے پاس نہیں رکھے۔میرے ساتھی تو یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کارتوسوں سے حملہ کرنا گویا شیر کو اپنے پر حملہ کرنے کی دعوت دینا ہے لیکن اس وقت میں نے پرواہ نہیں کی بلکہ بندوق اٹھا کر فائر کر دیا۔میرا فائر بھی یا تو خالی گیا یا شیر کو لگا تو اس نے پرواہ نہیں کی۔ہاں یہ بات بیان کرنی بھول گئی کہ میں نے جب شیر کی طرف دیکھا تو میں بھی اس کو سمجھتا تو شیر ہی ہوں مگر اس کی شکل بالکل ریچھ کی طرح ہے اور کھڑا بھی آدمیوں کی طرح ہے جو چو پاؤں کی طرح چار پاؤں پر نہیں کھڑا۔دوسری دفعہ میں نے شست کر کے اس کے پیٹ کی طرف بندوق چلائی۔نہ معلوم اس کو چھرے لگے یا نہ لگے مگر بہر حال دوسرے فائر پر وہ سیدھا آگے کی طرف کو دا اور میرے دونوں ساتھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔سامنے ایک لمبی عمارت بنی ہوئی ہے جیسے فوجی بیرک ہوتی ہے یا ملٹری سٹور ہوتا ہے اس میں دیواروں کے اوپر کے حصہ میں اکثر شیشہ لگا ہوا ہے۔میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے کہا کہ وہ آگے بڑھ کر دیکھیں کہ وہ شیر کہاں گیا ہے انہوں نے اس مکان کے پہلو میں سے ہو کر یا مکان کے اندر گھس کر شیشوں میں سے دیکھا اور پھر مڑ کر مجھے اشارہ کیا کہ وہ سامنے ہے۔میں نے بھی شیشوں میں سے جھانکا تو مجھے وہ شیر دوسری جہت سے جس طرف کہ وہ شخص تھا جس نے ہمیں اشارہ کر کے کھڑا کیا تھا دوڑتا ہوا نظر آیا اس وقت شیر کی شکل ریچھ کی طرز کی معلوم ہوتی ہے مگر وہ چاروں پیروں پر دوڑتا ہوا نظر آتا ہے اس پر میں نے بندوق میں کارتوس بھرے اور اس بیرک کے اندر گھس گیا۔اس کا ایک دروازہ اس طرف بھی کھلتا تھا جس طرف سے ہو کر اس شیر نے عمارت کے پاس سے گزرنا تھا۔میں اس دروازے کے سامنے بندوق کا نشانہ باندھ کر کھڑا ہو گیا جو نہی وہ شیر گذرے گا میں اس پر بندوق کا فائر کر دوں گا جب وہ شیر دروازہ کے سامنے آیا تو اس وقت پھر وہ کھڑا ہوا ہی چل رہا تھا