رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 323
323 کہتے ہیں کہ حضور "رب" سے مراد رب نواز ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص رب نواز ہے جو سلسلہ کا دشمن ہے اور چوہدری محمد اسحاق اس کو جانتے ہیں اور اس کے متعلق وہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے سردار وریام سنگھ پر برا اثر ڈالا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی جب میں بیدار ہوا تو میرے ذہن میں فوراً یہ بات گزری کہ "رب" سے مراد کنج بہاری لال بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو ” رب قادیان" کہتا ہے۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں بتایا ہے کہ سردار وریام سنگھ صاحب تو اچھے آدمی تھے لیکن جب انہیں کنج بہاری لال ملا تو اس نے ہمارے متعلق ان کے خیالات خراب کر دئیے۔مجھے ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے رویا میں یہ عبارت لکھی ہوئی بھی میرے سامنے آئی۔اور "رب" کا لفظ اس میں خطوط وحدانی میں تھا۔اگر جو معنے میں نے بیداری میں سمجھے تو چونکہ ”الرب" کا لفظ خطوط وحدانی میں تھا وہ طنز پر دلالت کرے گا اور اس کے معنے ہوں گے کہ وہ شخص جو گستاخی اور جہالت سے اپنے آپ کو "رب" کہتا ہے اور اس کا استعمال ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم متکبر سے کہیں گے ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان : 50) کہ اب اس جہنم کا مزا چکھ کیونکہ تو تو اپنے آپ کو شریف اور معزز سمجھتا تھا اس جگہ یہ مراد نہیں کہ تو واقعہ میں شریف اور معزز ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ اپنے آپ کو شریف اور معزز سمجھتا تھا اس لئے بطور طنز ا سے کہا جائے گا کہ تو بڑا عزیز اور کریم ہے اس طرح "الرب بھی اسے طنز کیا گیا ہے کہ وہ کہتا اپنے آپ کو رب ہے اور اس کا کام لوگوں کے دلوں میں منافرت کے جذبات پیدا کرنا ہے۔الفضل 5۔جون 1946ء صفحہ 12 391 جون 1946ء فرمایا : لاہور جانے سے تین چار روز قبل دیکھا کہ مسجد مبارک کے نیچے جو کمرہ ہے اور جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑے پر کشف میں چھینٹے پڑے تھے اس میں چار پائی پر میں بیٹھا ہوں کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم آئے ہیں۔جو ان شکل میں ہیں۔داڑھی مونچھیں منڈی ہوئی ہیں اور سر پر پگڑی کی بجائے ٹوپی ہے۔میں انہیں دیکھ کر خوش ہوا کہ آئے۔انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور پوچھا قادیان آجاؤں؟ میں نے کہا ضرور آجائیں۔مولوی صاحب نے