رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 322
322 خاک میں مل جائیں گے۔الفضل 4۔جون 1946 ء صفحہ 2-1 22/23۔مئی 1946ء 389 فرمایا : تین چار دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اس طرح کی مجلس میں بیٹھا ہوں اور میں دوستوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے مجھے وحی اولیاء کا بھی علم دیا ہے اور وحی انبیاء کا بھی علم دیا ہے میں آپ کو وحی اولیاء کے متعلق بتا چکا ہوں اب وحی انبیاء کے متعلق بتاتا ہوں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔تعبیر۔معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں انبیاء اور اولیاء کی پیشگوئیاں پوری ہوں گی۔ہم وحی انبیاء تو ہر روز ہی سناتے ہیں لیکن رویا کے الفاظ اس طرح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی اولیاء کا بھی علم دیا ہے اور وحی انبیاء کا بھی علم دیا ہے شاید وحی اولیاء کو اس لئے پہلے رکھا گیا ہو کہ اولیاء کی پیشگوئیاں عوام الناس میں زیادہ مشہور اور نمایاں ہوتی ہیں اس لئے وحی اولیاء کا ذکر پہلے کیا گیا اور وحی انبیاء کا بعد میں۔الفضل 5۔جون 1946ء صفحہ 1 مئی 1946ء 390 فرمایا : رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے الفاظ مجھ پر نازل ہو رہے ہیں لیکن بول میں رہا ہوں۔میں عربی میں تقریر کر رہا ہوں لفظ قریباً سب کے سب مجھے یاد ہیں سوائے کسی جگہ قلیل تغیر کے جو حافظہ کی وجہ سے ہو گیا ہو میں سردار وریام سنگھ کے متعلق کہتا ہوں قَبْلَ مَجِيْنِهِ إِلى قَادِيَانَ كَانَ شَابًا طَيِّبًا نَظِيْفًا فَلَمَّا لَقِيَهُ الرَّبُّ خَرَّبَ اخلاقهُ وَ أَفْسَدَ قَلْبَه یعنی قادیان یا کها گورداسپور آنے سے پہلے وہ پاک اور کھرے خیالات کے آدمی تھے مگر جب "رب" ان کو ملا تو اس نے ان کے اخلاق خراب کر دیئے اور دل بگاڑ دیا۔جب میں نے آخری فقرہ کہا تو میری طبیعت گھبرائی ہے کہ میں یہ کیا کہہ رہا ہوں اللہ تعالٰی سے ملاقات کے نتیجہ میں تو اصلاح ہوتی ہے لیکن میں کہہ رہا ہوں کہ جب اسے رب ملا تو اس کی اخلاقی حالت خراب ہو گئی۔اس وقت خواب میں ہی چودھری محمد اسحاق صاحب جو پہریدار ہیں