رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 320

320 بلکہ جیسے کوئی شخص اپنی بات زبر دستی منوانا چاہتا ہے اسی طرح وہ اپنی بات پر زور دیتا چلا جاتا ہے۔اتنے میں یکدم دائیں طرف سے موسیقی کی طرح آواز بلند ہونی شروع ہو گئی۔میں دیکھتا ہوں کہ میر ناصر نواب صاحب مرحوم اس جھیل کے پرے کھڑے جماعت کے لوگوں کو توجہ ولا رہے ہیں کہ خلیفہ کی بات کا ادب کرنا چاہئے اور اس کی رائے کی قدر کرنی چاہئے اور اس سے اختلاف پیدا نہیں کرنا چاہئے تمام برکت اسی میں ہے کہ خلیفہ کی اطاعت کی جائے۔پھر میں ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ میں ناپسندیدگی سے اس مسجد کا افتتاح کروں گا اور بعد میں نماز نہیں پڑھاؤں گا تم میں سے جو چاہے نماز پڑھے۔اسی قسم کی کچھ اور باتیں میں نے کی ہیں اور پھر وہاں سے اٹھ کر واپس چلا آیا ہوں۔جب میں وہاں سے چلا ہوں اس وقت میرے ساتھیوں میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہیں اور نہ ہی گھر کی مستورات میں سے کوئی میرے ساتھ ہے لیکن کچھ دور آکر میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے ساتھ آرہے ہیں جب ہم آگے بازار میں آئے ہیں تو میں نے دیکھا کہ میری بیوی بشری بیگم اور میری لڑکی امتہ الحکیم ہمارے آگے آگے جارہی ہیں۔میں ڈاکٹر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ میر صاحب یہاں کہاں سے آگئے۔ڈاکٹر صاحب مجھے جواب دیتے ہیں کہ میر صاحب تو فوت ہو چکے ہیں یہ تو ان کی روح بول رہی تھی۔خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے نتھیال میں ٹھرا ہوا ہوں۔چلتے چلتے ہم ایک ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں سے گلی دوسری طرف کو مڑتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہاں میرے نھیال میں سے کوئی بزرگ عورت کھڑی ہے اور راستہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ادھر آؤ۔وہاں میں ایک گلی میں داخل ہوا ہوں جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے ماموں کے گھر کو جاتی ہے لیکن کچھ دور چل کر معلوم ہوا کہ میری بیوی اور بیٹی اور وہ سن رسیدہ عورت ایک دوسری گلی کی طرف مڑگئی ہیں۔میں اس گلی میں چلتا چلا گیا ہوں آگے جاکر میں ایک گھر والوں سے پوچھتا ہوں کہ میں مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب کا مہمان ہوں کیا آپ لوگ ان کے مکان کا پتہ مجھے بتا سکتے ہیں وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں وہ کون ہے۔اس وقت میں دل میں کہتا ہوں کہ مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب تو دیلی کے مشہور ادیبوں میں سے ہیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کا علم نہیں۔میں وہاں سے آگے چلا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں نے رنگکرسی پہنی ہوئی ہے جیسی کہ نہر میں نہاتے وقت پہنی جاتی ہے۔آگے جاکر میں ایک گلی میں سے گزرا ہوں میں