رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 312
312 کے پاس آجاتا ہے جس طرح ماں بچہ کے پاس آجاتی ہے۔غرض رونا اور آنسو ہی جسم کو بچاتے ہیں اور رونا اور آنسو ہی روح کو بچاتے ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ سب لوگ میری تقریر سے بہت متاثر تھے اور خود میں بھی ایک وجد کی حالت میں تھا اس حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔تعبیر۔یہ خواب نہایت لطیف ہے گو مضمون تو عام ہے مگر طرز بیان بالکل نیا اور تشبیہ نہایت موزوں ہے لکھنو میں برود جگہ سے اشارہ اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ لکھنو میں کوئی دل کی ٹھنڈک کا سامان پیدا ہو گا اور امرتسر میں یہ تقریریں بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ امرتسر میں بھی کوئی سامان ترقی کے پیدا کرے گا یہ رویا 25 مارچ کی ہے۔الفضل 3 اپریل 1946ء صفحہ 2۔1۔نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم 384-385 384 13 26۔مارچ 1946ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں گھوڑے پر سوار ہوں چھ سات اور آدمی بھی گھوڑوں پر سوار ہیں وہ جرنیل معلوم ہوتے ہیں اور کسی احمدی لشکر کی کمان کرتے معلوم ہوتے ہیں مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ صداقت کے رستہ سے بھٹک گئے ہیں اور ان راہوں سے دور جا پڑے ہیں جس پر میں نے جماعت کو پختہ کیا ہے اور جماعت کو غلط راستے پر چلا رہے ہیں میں نے ان کو نصیحت کی۔وہ مجھے پہچان گئے ہیں لیکن میری دخل اندازی کو نا پسند کرتے ہیں۔(یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی آئندہ زمانہ ہے صدیوں بعد کا۔میں گویا دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آیا ہوں) اسی بحث مباحثہ میں انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ مجھے قتل کر دیں تا لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ میری تعلیم کیا تھی اور وہ لوگوں کو کد ھر لے گئے ہیں۔اس وقت میرے ہاتھ میں ایک تلوار ہے جو بہت لمبی ہے۔عام تلوار سے دو تین گنے لمبی۔مگر میں اسے نہایت آسانی سے چلا رہا ہوں ہم سب ایک خاص سمت کی طرف گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں لڑتے بھی جاتے ہیں مگر وہ کئی ہیں لیکن میں ان کا مقابلہ خوب کر رہا ہوں اور ان کے کندھوں پر میں نے کئی کاری ضربیں لگائی ہیں۔بعض چھلتی ہوئی ضربیں میرے جسم پر بھی لگی ہیں لیکن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔اسی طرح