رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 303

303 ہے۔میرے کان میں اس کی یہ آواز پڑی کہ پہلے مرزا صاحب تو کچھ بولنا جانتے تھے لیکن یہ جو موجودہ ہیں ان کو تو بالکل تقریر کرنی نہیں آتی۔پھر کچھ اور باتیں اس نے سلسلہ کے خلاف اور میرے خلاف کہیں اس کے بعد اس نے ان پتھروں میں سے جو اس کے ہاتھ میں تھے ایک پتھر اٹھا کر میری طرف پھینکا مگر وہ میرے پہلو کی طرف سے ہو کر گزر گیا مجھے لگا نہیں۔پھر اس نے دوسرا پتھر پھینکا وہ بھی مجھے نہیں لگا میں سیدھا چلتا چلا گیا اور وہ لڑکا نچلی سڑک پر دوڑتے ہوئے آگے نکل گیا اور کہیں سے چکر کاٹ کر وہ پھر سامنے آگیا اس وقت پھر اس کے ہاتھ میں پتھر ہیں۔اس وقت کسی نے مجھے آواز دی کہ یہ لڑکا آپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔اس دفعہ بھی اس کے پتھر ادھرادھر کرے سوائے ایک کے جسے میں نے اپنے ہاتھوں میں دبوچ لیا پھر میں آگے چل پڑا اور اس لڑکے نے میرا تتبع کیا بعض اور واقعات بھی ہوئے جو مجھے بھول گئے ہیں۔میں بلندی پر چڑھتے چڑھتے ایک مقام پر پہنچا جو پہاڑ کی چوٹی معلوم ہوتی ہے وہاں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور چند اور دوست ہیں اور ایک طرف ہمارے گھر کی مستورات بھی معلوم ہوتی ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ واقعہ سنایا کہ اس طرح میرے ساتھ رستہ میں ہوا ہے۔اس وقت خواب میں مجھے باقی واقعات بھی یاد ہیں اور وہ بھی میں نے کسی قدر تفصیل سے سنائے ہیں مگر اب وہ مجھے یاد نہیں اور کچھ حصہ اس واقعہ کا میں خواب میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں نے جان کے چھوڑ دیا ہے تاکہ بات لمبی نہ ہو جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور کچھ حصہ واقعات کا میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رعب کی وجہ سے مجھے بھول گیا ہے۔اس بھولے ہوئے حصہ کے متعلق اس موقع پر میں نے ایک بات کہی ہے جس میں داتہ جو ضلع ہزارہ میں ہے اس کا ذکر آتا ہے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ عرض کیا کہ یہ بات دانہ میں ہوئی یا دانہ کے کسی آدمی نے کی ہے کیونکہ اس وقت تک خواب میں اس گزشتہ واقعہ کو واقعہ سمجھتا ہوں خواب نہیں سمجھتا۔میری اس بات پر کسی حاضر مجلس نے آگے سے یہ کہا ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں مولوی محمدیحیی صاحب ہوتے تھے اس پر میں نے کہالو آپ نے یاد دلا دیا۔میں نے مولوی محمد یحیی صاحب ویپ گراں والوں کا تو اس موقع پر ذکر کیا تھا گویا میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ مولوی محمد یحیی صاحب ضلع ہزارہ کے تھے اس لئے ان کا بھی اس واقعہ سے تعلق