رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 302
302 عورت ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مہمان ہے۔اس وقت میرے دل میں یہ خیال گزرتا ہے کہ مریم نے اس مہمان کو اپنی چارپائی دے دی ہے اور آپ زمین پر کمرے کے ایک گوشہ میں لیٹ گئی ہیں اور یہ جو مسجد کا دروازہ کھول کے بے پردگی ہوئی ہے یہ اس مہمان عورت کی غلطی ہے اس میں مریم کا کوئی دخل نہیں۔تعبیر۔یہ دو دنوں میں مردوں کا زندہ ہو کر واپس آنا دیکھا اور میری امتہ الحی مرحومہ جنہیں میں نے قریباً ہمیں سال سے رویا میں نہیں دیکھا تھا ان کا رویا میں دیکھنا بتاتا ہے کہ در حقیقت بعض ایسی باتیں ہونے والی ہیں جو جماعت کے لئے نقصان دہ نظر آئیں گی لیکن آخر اللہ تعالی ان میں سے احیاء کا کوئی پہلو پیدا کر دے گا۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا کی دعا بھی تاتی ہے کہ در حقیقت جماعتی اور نظامی امور اور دعا کی طرف ان خوابوں کا اشارہ ہے۔ان افراد کی طرف نہیں جن کو خواب میں دیکھا گیا ہے اسی طرح پہلی خواب جو ہے اس میں دشمن کا حملہ دکھایا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فعل کہ پہلے جوتی اٹھا کر میرے آگے رکھنے کی کوشش کرنا اور پھر میرے کمرے میں سے نکلتے ہوئے مجھے آگے چلنے کا ارشاد فرمانا اس میں جماعت کی تنظیم اور اس کے آداب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلے اس کا فرض ہے کہ نظام سلسلہ کا احترام ایسے رنگ میں کرے جیسے کہ صحابہ انبیاء کا کرتے چلے آئے ہیں جو لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے وہ در حقیقت مقام نبوت کے سمجھنے سے ہی عاری ہیں۔خواہ منہ سے نبی نبی کی رٹ لگاتے رہیں۔الفضل 22۔جنوری 1946 ء صفحہ 2۔3 376 20 جنوری 1946ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک پہاڑی پر چڑھ رہا ہوں جس وقت میں نے پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا تو جیسے پہاڑ میں بعض سڑکیں کو ٹھی کی طرف اوپر جاتی ہیں اور نیچے بھی ساتھ ساتھ رستہ جا رہا ہے ایسے ہی رستے پر میں چڑھنے لگا ہوں۔میں نے دیکھا کہ ایک لڑکا جس کے ہاتھ میں دو تین پتھر ہیں جنہیں پنجابی میں کھنگر کہتے ہیں سلسلہ کے خلاف بلند آواز سے کچھ بکواس کرتا جا رہا