رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 301
301 دروازے کھلنے والے ہیں۔الفضل 17۔دسمبر 1945ء صفحہ 8-7 374 نومبر 1945ء فرمایا : میں نے ایک اور رویا دیکھا کہ میر قاسم علی صاحب مرحوم آئے ہیں انہوں نے گرم گوٹ اور گرم پاجامہ پہنا ہوا ہے اور وہ مضبوط جوان معلوم ہوتے ہیں۔قاسم علی میں بھی عرب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔قاسم کے معنے تقسیم کرنے والے کے ہیں اور علی کے معنی بڑی شان والے کے۔پھر میر قاسم علی سید بھی تھے۔پس وقت آگیا ہے کہ لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف رجوع کریں گے اور ان کے رجوع کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔الفضل 17۔دسمبر 1945ء صفحہ 8 375 19۔جنوری 1946ء فرمایا : کل بھی میں نے دیکھا کہ ام طاہر مرحومہ اماں جان کے پاس بیٹھی ہیں پھر اٹھ کر اوپر چلی گئی ہیں اور اس کمرے میں جس میں میں نے آج امتہ الحی مرحومہ کو دیکھا ہے جا کر لیٹ گئیں۔چونکہ ہمارے گھر کا دستور یہی ہے کہ خواہ ایک لمبا عرصہ شادی پر گزر جائے اپنے بزرگوں کے سامنے بیویوں سے بے تکلف بات نہیں کرتے عام باتیں کر لیتے ہیں لیکن خاص گفتگو یا گھر کے معاملات کے متعلق کوئی تفصیلی باتیں یا ایک دوسرے کی خیریت کے متعلق ایسی گفتگو جس میں زیادہ ہمدردی اور محبت کا لہجہ پایا جاوے ہم لوگ نہیں کرتے اس لئے میں ان کے پیچھے گیا کہ وہ حضرت (اماں جان) کے پاس تھیں اور میں ان سے بات نہیں کر سکتا تھا اور اس نیت سے گیا کہ جا کر ان سے بات کروں گا۔میں جب وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کمرہ میں کوئی عورت چار پائی پر سوئی ہوئی ہے اور ایک اور عورت کو نہ میں سوئی ہوئی ہے۔چارپائی کے ساتھ دروازہ مسجد میں کھلتا ہے اور وہ کھلا ہے اور لوگ باہر مسجد میں بیٹھے ہیں۔یہ خیال کر کے کہ شاید یہ مریم لیٹی ہوئی ہیں میں نے کہا مریم دروازہ کھلا ہے اور سامنے سے نظر پڑتی ہے۔یہ بہت بری بات ہے یہ بہت بری بات ہے پھر اس آواز پر وہ چارپائی پر لیٹی ہوئی عورت اٹھی اس پر معلوم ہوا کہ وہ اجنبی