رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 296
296 صاحب کے منہ سے کہلوایا گیا تھا وہ نحوی لحاظ سے نہ تھا بلکہ معنوی لحاظ سے تھا اور مراد زیر سے اتباع ہے اور واؤ معیت سے مراد نحوی اصطلاح نہیں بلکہ معیت معنوی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ کی اتباع حاصل ہو وہ تو صرف خدا تعالیٰ کی اتباع کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں دوسرے کسی اور کے آگے نہیں جھکتے۔جب اس کا پس پردہ دیکھا جائے تو یہ مضمون اس کے بالکل مطابق آجاتا ہے اور وہ پس پردہ یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت میں نے کمیونسٹوں پیغامیوں اور بہائیوں کے فتنہ کے دور ہونے کے متعلق دعا کی تھی سو اللہ تعالیٰ نے تین ہی قسم کی آیات اس بارہ میں نازل فرما دیں اِنَّا اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً میں پیغامیوں کا رد ہے سورۃ فاتحہ میں کمیونسٹوں کا رد ہے (اس بارہ میں ایک الهام مجھے پہلے بھی ہو چکا ہے جو یہ ہے کہ اِنَّمَا أُنْزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ) اور آخری آیت جو میں نے پڑھی اس میں بہائیوں کا رد کیا گیا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سے ان کا کوئی تعلق ہو تا تو غیر اللہ کو سجدہ کرنا کیوں جائز رکھتے جیسا کہ خود بہاء اللہ اور ان کے اتباع نے جائز رکھا ہے۔سو تینوں آیات قرآنیہ سے تین فرقوں کا رد کیا گیا ہے اور الہی امداد کی بشارت دی گئی ہے فَالْحَمْدُ لِلَّهِ - الفضل 21 - ستمبر 1945ء صلح 2 8 369 اکتوبر 1945ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بڑے فراخ کمرے میں ہوں جس کا نقشہ اس کمرہ سے ملتا ہے جو شیخ صاحب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور) نے ہمارے رہنے کے لئے دیا ہوا ہے شیخ صاحب کا کمرہ تو اوپر کی منزل پر ہے مگر خواب میں جو کمرہ دیکھ وہ زمین پر ہے اس کمرہ میں ایک طرف ایک چارپائی بچھی ہے اور سامنے والی دیوار کے پاس ایک میز رکھی ہے میز کے سامنے دو کرسیاں بچھی ہیں ان پر میری بیوی ام متعین اور حضرت (اماں جان) بیٹھی ہیں کرسیوں اور چار پائی کے درمیان جو راستہ ہے میں اس میں ٹہل رہا ہوں۔میز پر کچھ ناشتہ کی چیزیں رکھی ہیں اور ساتھ ہی اس پر ایک طرف کو کچھ حصہ میں گھاس اگی ہوئی ہے اور کچھ کیچڑ اور دلدل ہے جیسا کہ میوزیم میں اکثر دکھانے کے لئے چھوٹی چھوٹی کیاریاں اور گھاس لگائے