رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 295
295 کرنے سے پہلے جو مسنون الفاظ ہیں وہ میں پڑھ رہا ہوں مسنون الفاظ کی تلاوت کے بعد میں نے خوش الحانی سے سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی جیسے کہ میری عادت ہے کہ ہر تقریر سے پہلے میں (سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں۔لیکن بسم اللہ سے پہلے یا اس کے بعد یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔میں نے یہ الفاظ پڑھے وَإِنَّا اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً" قرآن شریف میں اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً (الفرقان : 49) تو آتا ہے مگر انا کا لفظ اس کے ساتھ نہیں چنانچہ سورہ حجر میں سورہ مومنین میں سورہ فرقان میں سورۃ لقمان میں یہ الفاظ میں انا ان میں سے کسی مقام پر نہیں مگر میں نے إِنَّا أَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً پڑھا گویا واؤ اور اَنْزَلْنَا کے درمیان انا زائد کیا اس وقت میں اس کو قرآن شریف کی آیت سمجھتا ہوں یہ آیت کچھ ایسی خوش الحانی سے پڑھی ہے کہ مجمع سے بے اختیار سُبْحَانَ اللہ کی آوازیں بلند ہوئیں اس کے بعد میں نے سورہ فاتحہ کی تلاوت الْحَمْدُ سے لے کر وَلَا الضَّالِّينَ تک کی اس تلاوت کے درمیان میں بھی ایک جگہ میری آواز میں ایسی خوبصورت اور تاثیر پیدا ہوئی کہ سارا مجمع بے اختیار سُبْحَانَ اللهِ کہ اٹھا لیکن مجھے یاد نہیں کہ کس مقام پر ایسا ہوا۔وَلَا الضَّالِّينَ کے بعد پھر میں نے ایک اور آیت پڑھی جو ساری مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ میں نے پڑھا وَعِنْدَ رَبِّكَ لیکن قرآن کریم میں اس رنگ میں تو کوئی آیت نہیں۔مجھ پر جو اثر ہے وہ یہ ہے کہ میں نے جو آیت پڑھی اس میں تسبیح کا ذکر تھا اس مضمون کی آیت سورہ اعراف میں آتی ہے جو یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ (الاعراف : 207) بہر حال جب میں نے یہ آیت پڑھی تو اس وقت بھی میری آواز میں ایسی خوبصورتی اور تاثیر پیدا ہوئی کہ تمام حضار مجلس نے بے اختیار سُبْحَانَ اللهِ کہا اس موقع پر حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی اے بول پڑے کہ عِندَ پر زیر کیوں نہیں آئی حالانکہ اس سے پہلے واؤ ہے اور وہ معیت کے لئے ہے۔میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ یہ اعتراض کلی طور پر عربی کے قاعدہ کو نہ جاننے کی وجہ سے ہے یہاں زیر تو آہی نہیں سکتی اور واؤ زیر نہیں لاتی اور اسی قسم کا جواب جو مجھے یاد نہیں رہا میں نے انہیں دیا ہے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی لیکن جاگنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ جو فقرہ صوفی