رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 26

26 لئے میں تو ضرور جاؤں گا۔چنانچہ اس جہاز راں کمپنی سے گورنمنٹ کا کوئی جھگڑا تھا اور اس نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ وہ جہاز آخری ثابت ہوا اور کمپنی والے اس سال اور جہاز حاجیوں " کے نہ لے گئے۔الفضل 25 - اگست 1938 ء صفحہ 7۔نیز دیکھیں۔الفضل 10 مئی 1944ء صفحہ 5 اور تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ اول صفحہ 34-35 مکتوب بنام خلیفة المسیح بحوالہ البدر 12 - دسمبر 1912ء صفحہ 2 37 28 اکتوبر 1912ء فرمایا : آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ ناصر کچھ بیمار ہیں۔نہ معلوم خواب کی کیا تعبیر ہے لیکن حضور دعا فرمائیں۔عورتوں کو خاوندوں کی جدائی کا بھی ایک صدمہ ہوتا ہے اور اس سے جسمانی بیماریوں کا بھی خطرہ ہوتا ہے دعا کی سخت ضرورت ہے۔(مکتوب بنام خلیفہ المسیح از سویز بحوالہ بد ر 12 - دسمبر 1912ء صفحہ 1) 38 نومبر 1912ء فرمایا : ایک متوحش نظارہ بار بار دیکھ رہا ہوں جب دعا کرتا ہوں پھر وہی بات اور رنگ میں دکھلائی جاتی ہے قریباً سات دفعہ دیکھا ہے۔کل اونٹ پر جاگتے ہوئے کشفی رنگ میں دیکھا۔ابھی سردرد کی وجہ سے لیٹ گیا تھا پھر وہی دیکھا۔مکتوب بنام خلیفہ اول بحوالہ الفضل 30 - ستمبر 1949ء صفحہ 5) 39 نومبر 1912ء فرمایا : خدا تعالیٰ نے مجھے خود ایک رؤیا کے ذریعہ بتایا کہ آسمان سے سخت گرج کی آواز آ رہی ہے اور ایسا شور ہے جیسے توپوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے ہاں کچھ کچھ دیر کے بعد آسمان پر روشنی ہو جاتی ہے اتنے میں ایک دہشت ناک حالت کے بعد آسمان پر ایک روشنی پیدا ہوئی اور نہایت موٹے اور نورانی الفاظ میں آسمان پر لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا گیا ہے اس کے بعد کسی نے باد از بلند کچھ کہا جس کا مطلب یا د رہا کہ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات ہو رہے ہیں جن کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا ہو گا۔