رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 25
25 کتاب سے معلوم ہوا کہ کھک کو کہتے ہیں اور یہ عربی لفظ ہے تو اس قسم کے نئے الفاظ بتایا جانا ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ یہ خواب خدا کی طرف سے ہے۔حقیقتہ الرؤ یا صفحہ 64-65(ایڈیشن دوم ( تقریر جلسہ سالانہ 28 - دسمبر 1917ء) نیز دیکھیں۔اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات صفحه 51-52 +1911 35 فرمایا : میں نے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات سے تین سال پہلے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب (حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ۔ناقل) کا بھی کچھ تعلق ہے چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس رویا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیسا زبردست ہے۔برکات خلافت صفحہ 41 ( تقریر 27 - دسمبر جلسہ سالانہ 1914ء) 36 اکتوبر 1912ء فرمایا : جب میں تعلیم کے لئے مصر گیا تو ارادہ تھا کہ حج بھی کرتا آؤں گا مگر یہ پختہ ارادہ نہ تھا کہ اسی سال حج کروں گا۔یہ بھی خیال آتا تھا کہ واپسی پر حج کرلوں گا۔جب میں بمبئی پہنچا تو وہاں نانا جان مرحوم بھی آملے۔وہ براہ راست حج کو جا رہے تھے اس پر میرا بھی ارادہ پختہ ہو گیا کہ اسی سال ان کے ساتھ حج کرلوں۔جب پورٹ سعید پہنچے تو میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر حج کی نیت ہے تو کل ہی جہاز پر سوار ہو جاؤ کیونکہ یہ آخری جہاز ہے گونج میں ابھی دس پندرہ دن کا وقفہ تھا مگر فاصلہ بھی وہاں سے قریب ہے اس لئے خیال کیا جاتا تھا کہ ابھی کئی جہاز حاجیوں کے مصر سے جدہ جائیں گے۔میرے ساتھ عبدالحی صاحب عرب بھی تھے وہ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اگلے جہاز پر چلے جائیں گے مگر مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر نیت ہے تو اسی جہاز پر جاؤ ورنہ جہازوں میں روک پیدا ہو جائے گی اس لئے میں نے پختہ ارادہ کر لیا۔وہاں جو ایک دو اصحاب واقف ہوئے تھے وہ بھی کہنے لگے کہ ابھی تو کئی جہاز جائیں گے قاہرہ اور سکندریہ وغیرہ دیکھتے جائیں۔اتنی دور آکر ان کو دیکھے بغیر چلے جانا مناسب نہیں مگر میں نے کہا کہ مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل نہ جانے سے حج سے رہ جانے کا خطرہ ہے اس