رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 290

290 فرمایا : اس خواب میں بہت سے گذشتہ اور آئندہ امور پر روشنی پڑتی ہے۔الفضل یکم ستمبر 1945ء صفحہ 21۔نیز دیکھیں الفضل - 25 - ستمبر 1945ء صفحہ 1 - 11 فروری 1957ء صفحہ 6 9 یا 10۔ستمبر 1945ء 364 فرمایا : دس تاریخ کو جب میں قادیان گیا تو میں نے اسی دن یا اس سے پہلے دن رؤیا میں دیکھا کہ ایک احمدی نوجوان نهایت بیش بہا لباس میں ملبوس چلا آرہا ہے (اور یہ نوجوان اس وقت بالکل بے کار ہے کوئی غیر احمدی ملاقاتی اس کے لباس کو دیکھ کر اس لئے حیران ہے کہ احمدی تو سادہ ہوتے ہیں اس نے ایسا اچھا لباس پہنا ہوا ہے میں نے اس کے چہرہ سے اس کی حیرت کو پہچانا اور کہا کہ یہ فلاں جگہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آیا ہے اس لئے اس کا لباس ایسا اعلیٰ ہے۔قادیان میں مجھے یہ نوجوان ملے اور ان کو میں نے یہ رویا سنا دیا جبکہ اور دوست بھی پاس کھڑے تھے ابھی اس رویا پر دس دن ہی گزرے تھے کہ اسی تعلیم کے نتیجہ میں جس کی طرف میں نے خواب میں اشارہ کیا تھا کہ اس کی وجہ سے اس کا یہ اعلیٰ قیمتی لباس ہے اس نوجوان کے متعلق ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ مجھے پرسوں ان کا مخط ملا کہ اللہ تعالیٰ کچھ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے کہ یا تو صوبہ کی ایک بہترین ملازمت ان کو مل جائے گی یا پھر کروڑوں روپیہ کی تجارت کا راستہ کھل جائے گا۔اس وقت اس نوجوان کی چند سو کی بھی حیثیت نہیں ہے۔چونکہ نام اور تفصیل کے اظہار سے نقصان کا ڈر ہے اس لئے سردست میں نام اور تفصیل کو ظاہر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ عزیز کی امیدوں کو پورا کرے اور سچا احمدی رہنے کی توفیق بخشے۔11/12۔ستمبر 1945ء فرمایا ہوئے۔365 الفضل 25۔ستمبر 1945ء صفحہ 2 11 اور 12 ستمبر 1945ء کی درمیانی رات کو یکدم میرے دل پر یہ الفاظ نازل ملک بھی رشک ہیں کرتے" یہ الفاظ اتنے زور سے نازل ہوئے کہ اسی زور سے میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلنے کے بعد