رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 286

286 جا کر بیٹھ گیا مگر میرے بیٹھتے ہی وہ لوگ اٹھ کر مجھ سے مصافحہ کرنے لگ گئے۔اور میں خواب میں حیران ہوں کہ میں تو پوشیدہ آیا تھا پھر یہ لوگ مجھ سے اٹھ کر مصافحہ کرنے لگ گئے جب سب اخباری نمائندے مجھ سے مصافحہ کر چکے تو ایک شخص اٹھا اور اس نے بھی مصافحہ کیا مگر ساتھ ساتھ ایک طویل گفتگو شروع کر دی میں نے خیال کیا کہ یہ دیوانہ ہے اس سے کسی طرح پیچھا چھڑانا چاہئے آخر سوچ کر میں نے اسے کہا کہ یہ تو گاندھی جی کی ملاقات کا وقت ہے ان سے بات کرو اس پر وہ مجھے چھوڑ کر گاندھی جی کی طرف مخاطف ہوا اور بات کرتے کرتے ان پر جھکتا چلا گیا یہاں تک کہ اس کے دباؤ کی وجہ سے گاندھی جی ایسی حالت میں ہو گئے کہ گو یا لیٹے ہوئے ہیں وہ ان کے اوپر دراز ہو گیا اور اپنی بات جاری رکھی۔میں حیران ہوں کہ ان کے ملاقاتی ان کو چھڑاتے کیوں نہیں۔ایسی حالت میں گاندھی جی نے انگلیاں ہلانی شروع کیں جیسے کہ کوئی شخص دل میں باتیں کرتے ہوئے انگلیاں ہلاتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ اس طرح اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ گاندھی جی اپنے قدیم طریق کے مطابق کوئی ایسا قدم اٹھانے والے ہوں گے جو شور پیدا کرنے والا ہو گا تبھی اخباری نمائندوں کا اجتماع دیکھا پاگل کا ان پر بوجھ ڈالنا تھا تا ہے کہ ان پر کوئی مخالف اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی اور میرے وہاں جانے کی تعبیر بظا ہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اس اقدام کا اثر مسلمانوں پر بھی پڑے گا۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب - الفضل 11 اگست 1945ء صفحہ 1-2 360 اوائل اگست 1945ء فرمایا : میں صبح کے وقت بعد از نماز سویا ہوا تھا کہ مجھے آواز دے کر اندر سے کسی نے جگایا میں اٹھ کر بیٹھ گیا بیٹھتے ہی کشف کی حالت طاری ہوئی۔میں نے دیکھا کہ ایک احمدیہ جماعت کا مجمع ہے سامنے ایک سکھ جو دراصل مسلمان ہے تقریر کر رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریباً پچاس سال سے جماعت احمدیہ نے سکھوں میں تبلیغ شروع کی تھی لیکن چونکہ فوراً نتیجہ نہ نکلا ان میں کچھ ستی اور مایوسی پیدا ہو گئی مگر یہ سستی اور مایوسی ان میں پیدا نہیں ہونی چاہئے تھی اس آخری فقرہ پر کشف کی حالت جاتی رہی۔