رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 287
287 میں سمجھتا ہوں کہ اس کشف میں ہمیں اپنے فرض کی طرف توجہ دلائی گئی اور بتایا گیا ہے کہ سکھ ضرور اسلام کی طرف آئیں گے اس لئے اس کام کی طرف خاص توجہ چاہئے۔الفضل 11 - اگست 1945ء صفحہ 2 غالبا اگست 1945ء 361 فرمایا : مجھے یہاں "مَاء فَجَّاجا" کے الفاظ سے اپنا وہ خواب یاد آگیا جو تھوڑے دن ہوئے میں نے دیکھا تھا اور جس میں مجھے انسانی قلب ایک تنور کی شکل میں دکھایا گیا اور مجھے یہ نظارہ نظر آیا کہ اس تنور میں سے اللہ تعالی کے عرفان کا پانی پھوٹنا شروع ہوا اور وہ دنیا کے کناروں تک پھیل گیا میں نے جب اس پانی کو پھیلتے دیکھا تو اس وقت میں نے کہا یہ پانی پھیلے گا اور پھیلتا چلا جائے گا یہاں تک کہ دنیا کا ایک انچ بھی ایسا باقی نہ رہے گا جہاں خدا کے عرفان کا یہ پانی نہ پہنچے۔تفسیر کبر جلد ششم جز و چهارم نصف اول صفحه 25 فرمودہ اگست 1945ء 362 فرمایا : قرآن کریم کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مضامین ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے القاء اور الہام کے طور پر مجھے سمجھائے ہیں اور میں اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا جس قدر بھی شکر ادا کروں کم ہے اس نے کئی ایسی آیات جو مجھ پر واضح نہیں تھیں ان کے معانی بطور وحی یا القاء میرے دل پر نازل کئے اور اس طرح اپنے خاص علوم سے اس نے مجھے بہرہ ور کیا۔مثال کے طور پر میں سورہ بقرہ کی ترتیب کو پیش کرتا ہوں میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ یکدم مجھے القاء ہوا کہ فلاں آیت اس کی کنجی ہے اور جب میں نے غور کیا تو اس کی تمام ترتیب مجھ پر روشن ہو گئی اسی طرح سورۃ فاتحہ کے مضامین مجھے القاء اور الہاما اللہ تعالیٰ کی طرف سے رویا میں بتائے گئے تھے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا سینہ سورۃ فاتحہ کے حقائق سے لبریز فرما دیا قرآن کریم کی ترتیس بیسیوں آیات کے متعلق خدا تعالی کی طرف سے بطور القاء مجھے سمجھائی گئی ہیں مثلاً سورہ بروج اور سورہ طارق کا جوڑ کہ ان میں سے ایک سورہ میں مسیحیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ بھی ان مضامین میں سے ہے جو لوگوں کی نگاہ سے مخفی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے