رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 278
278 نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد ششم جز و چهارم حصہ دوم صفحه 336 9/8۔اپریل 1945ء 351 فرمایا : ابو الکلام صاحب آزاد کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ قریب مرحلہ میں ان کی ذات کے متعلق ایک عظیم الشان واقعہ ہونے والا ہے۔فرمایا : اس رؤیا کے دو ماہ بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ لارڈ ویول کی طرف سے ہندوستان کی آزادی کا سوال پیش کیا گیا۔لارڈ ویول نے جن کو دعوت نامے بھیجے ان میں ابوالکلام صاحب آزاد کا نام نہیں تھا۔گاندھی جی کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے شمولیت سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں کانگریس کا نمائندہ نہیں۔کانگرس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد ہیں آپ مجھے غیر جانبدار شخص کے طور پر بلا سکتے ہیں مگر کانگرس کی نمائندگی کے لئے آپ ابو الکلام صاحب آزاد کو بلائیں چنانچہ اس کے بعد لارڈ ویول کی طرف سے ابو الکلام صاحب آزاد کو دعوت دی گئی اب چاہیں تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور چاہیں تو اس کو ضائع کر دیں۔الفضل 23 جون 1945ء صفحہ 78 352 ایریل 1945ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان کے شمال مشرق کی طرف ہوں کچھ اور لوگ بھی میرے ساتھ ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ساتھ ہیں۔میں نے وہاں بڑی بڑی عمارتیں دیکھی ہیں جیسے پرانے زمانہ کے محلات ہوتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ گویا پرانے زمانہ کا نقشہ میرے سامنے آگیا ہے جو ہمارے باپ دادا کے زمانہ میں تھا اس وقت جبکہ قادیان کی ریاست تباہ نہیں ہوئی تھی اور ہمارے باپ دادا بر سر اقتدار تھے وہ نقشہ میرے سامنے ہے ان گھروں کے رہنے والوں کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ہمارے جدی رشتہ دار ہیں اس وقت مجھے کسی نے بتایا کہ ان لوگوں نے ہمارے پڑداد کو پیغام دیا ہے کہ آپ پوری طرح کفار کا مقابلہ نہیں کرتے اگر یہ غفلت جاری رہی تو اس کے نتیجہ میں ریاست جاتی رہے گی ممکن ہے ہمارے کسی پڑداد کے زمانہ میں جب ریاست میں کمزوری ہوئی ہو کسی رشتہ دار نے ایسا کہا بھی ہو بہر حال یہ