رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 266

266 آگئے۔میں کہتا ہوں ان مزدوروں کا گورنمنٹ کے جھگڑے سے کیا تعلق ہے۔چوہدری صاحب نے کہا میں نے ان کو سٹیشن پر اسباب لانے کے لئے بلایا ہے۔اس کے بعد انہوں نے مجھے بھی کہا کہ ساتھ چلیں چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا چوہدری صاحب اور مزدور تیزی کے ساتھ مجھ سے آگے آگے جارہے ہیں اور میں آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر سے اتر رہا ہوں جب میں نیچے اتر آیا تو میں نے دیکھا کہ چوہدری صاحب بے تحاشا و اپس بھاگے آرہے ہیں میں انہیں دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔وہ کہنے لگے ڈاکوؤں نے حملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ مصری صاحب بھی ہیں۔اس وقت چوہدری صاحب کے پاس اسباب نظر نہیں آتا چوہدری صاحب تیزی کے ساتھ سیڑھیوں پر چڑھنے لگے اور مجھے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے کہنے لگے جلدی چلیں چنانچہ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا جب میں اوپر پہنچا تو ایک پلیٹ فارم پر سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے جس میں ایک کمرہ ہے اور چھوٹا سا صحن ہے وہاں حضرت (اماں جان) اور میاں بشیر احمد بیٹھے ہیں میں نے ان کو دیکھ کر خیال کیا چلو یہیں ٹھہر جاتے ہیں لیکن ایک آدمی نے کہا آگے جائیے۔میں نے کہا کہاں جاؤں۔وہ کہنے لگے سڑک پر سیدھے چلے جاؤ اس میں پہاڑی راستہ بھی آئے گا اس کے بعد حفاظت کی جگہ ہے میں نے کہا اس حفاظت کی جگہ کی نشانی کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے نواب صاحب بہاول پور کی کو ٹھی میں سے یہ راستہ ہو کر جائے گا۔چنانچہ میں اسی خیال سے چل پڑتا ہوں کہ نواب صاحب کی کوٹھی سے کسی سے حفاظت کی جگہ پوچھ لوں گا اس کے بعد میں نے چوہدری صاحب کو نہیں دیکھا۔جاتے جاتے ایک موڑ سے مڑکر میں نے دیکھا کہ کوئی بڑی گہری اترائی ہے اور اس میں ایک پک ڈنڈی ہے جو ڈیڑھ فٹ چوڑی ہے میں حیران ہوں کہ کس طرح اتروں پہلے تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا تھا لیکن اب دل کی کمزوری کی وجہ سے نہیں چڑھ سکتا۔میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں گیا تو کمزوری کی وجہ سے کہیں چکر نہ آنے لگ جائیں لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں چلنا چاہئے لیکن پگ ڈنڈی اتنی سیدھی ڈھلوان میں سے ہو کر جاتی ہے کہ انسان اس پر بغیر سہارے کے نہیں چل سکتا بہر حال میں اس پر چل پڑتا ہوں۔تھوڑی دور جاکر میں نے دیکھا کہ کھمبے کی تاروں کی طرح پانچ چھ تاریں پگڈنڈی کے ساتھ ساتھ چلی جا رہی ہیں میں ان پر ہاتھ رکھتا ہوں تو کوئی کہتا ہے یہ کہیں گر نہ جائیں میں کہتا ہوں یہ بنی ہی اس لئے ہیں کہ ان پر ہاتھ رکھ لئے جائیں جب میں ان پر ہاتھ رکھتا ہوں تو میری رفتار بہت تیز ہو