رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 261

261 آپ اسے رہنے دیں۔میں نے جب گٹھڑی کو کھولا تو اس کے اندر کچھ کپڑے ہیں جیسے تھان ہوتے ہیں پھر ان کے نیچے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں یہاں تک کہ پھر چھوٹی چھوٹی کتر نیں آگئیں جن کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحب اور ان کی بیوی کہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب اکٹھا کر کے انہوں نے بھیج دیا ہے۔حضرت اماں جان) بھی رویا میں وہاں میرے ساتھ ہیں آپ ان کترنوں کو دیکھ کر سر کی طرف اشارہ فرماتی ہیں اور سر کی طرف اشارہ کرنے سے گویا ان کا مطلب یہ ہے کہ صوفی صاحب کے دماغ میں کوئی نقص ہے کہ انہوں نے چھوٹی چھوٹی کتر نیں گٹھڑی میں باندھ کر بھیج دی ہیں۔میں حضرت اماں جان) کی اس بات کی تردید نہیں کرتا میں کہتا ہوں کہ ان کو کبھی کبھی اخلاص کا دورہ ہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ سب کچھ اکٹھا کر کے پیشن کر دیا کرتے ہیں پھر ڈاکٹر صاحب اور ان کی بیوی اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں اجازت دیں ہم اپنی نذر پیش کریں لیکن میں کہتا ہوں اس کی ضرورت نہیں۔آپ رہنے دیں اور میں نے اس گٹھڑی کو ایک طرف رکھ دیا اور میرا ارادہ یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ کسی کو معلوم ہو صوفی صاحب کو واپس کردوں گا۔الفضل 11۔دسمبر 1944ء صفحہ 2۔1 333 نومبر 1944ء فرمایا : رویا میں دیکھا کہ میں دہلی میں ہوں وہاں ایک عمارت خریدنی ہے جس کے لئے میں چاندنی چوک میں جا رہا ہوں معلوم ہوا ہے کہ جس تاجر کے پاس عمارت ہے وہ چاندنی چوک میں رہتا ہے اس سے وہ عمارت خریدنی ہے۔پھر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ احمدیوں کو یہ عمارت نہیں دے گا لیکن میں رویا میں یہ خیال کرتا ہوں کہ اس کو کیا پتہ کہ کون خرید رہا ہے اس لئے یہ عمارت وہ ہمیں دے دے گا۔جس راستہ پر میں جا رہا ہوں وہ بڑا وسیع ہے راستہ میں جاتے جاتے ایک طرف میں نے دیکھا کہ کچھ انگریز کوئی کھیل کھیل رہے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ فٹ بال یا ایسی ہی کوئی کھیل ہے جن کو کھیلتے دیکھ کر میرا کوئی ساتھی کہتا ہے کہ کیا پاگل پن ہے۔گویا اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ادھر خوفناک جنگ ہو رہی ہے اور ادھر یہ لوگ کھیل میں مشغول ہیں یہ کیا پاگل پن ہے میں اسے کہتا ہوں کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے یہ کھیل نہیں کھیل رہے بلکہ جنگ کے لئے ہی تیاری اور مشق کر رہے ہیں پھر اس کے بعد نظارہ یاد نہیں