رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 246

246 314 جولائی 1944ء فرمایا : کل میں نے چند رویا اور الہام سنائے تھے۔ایک رؤیا سنانا بھول گیا تھا جو یہ ہے۔میں نے دیکھا میں اسی جگہ بیٹھا ہوں ایک دوست اپنی جماعت کے جو مخلص ہیں وہ مجلس سے اٹھے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کام کے لئے اٹھے ہیں اور اس کے لئے ادھر سیڑھیوں کی طرف گئے ہیں۔مسجد کا وہ سامنے کا کو نہ جہاں ٹین لگا ہوا ہے وہاں چھوٹی سی دیوار معلوم ہوتی ہے اور سیڑھیاں ننگی ہیں اوپر سے چھتی ہوئی نہیں ہیں وہ دوست اس طرح اٹھ کر گئے جیسے کوئی چیز اٹھانے جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سر چکرا گیا ہے وہاں اس کونے پر جا کر انہوں نے اپنا ایک پاؤں آگے بڑھایا یہ دیکھ کر میں حیران ہو تا ہوں کہ نیچے تو گڑھا ہے یہ کیا کرنے لگے ہیں پھر خیال آتا ہے کہ کسی چیز کی تلاش کے طور پر پاؤں آگے رکھ رہے ہیں میں یہ نہیں سمجھتا کہ اترنے لگے ہیں پھر انہوں نے اپنا دوسرا پاؤں بھی آگے بڑھا دیا اتنے میں ان کے نیچے گرنے کی آواز آئی۔میں دوڑا اور انہیں آواز دی کہ چوٹ تو نہیں آئی انہوں نے کچھ جواب دیا جو میری سمجھ میں نہیں آیا مگر مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ زندہ ہیں کچھ اور لوگ دوڑ کر نیچے ان کے پاس گئے ان سے میں نے پوچھا ان کا کیا حال ہے تو انہوں نے کہا۔چوٹیں آئی ہیں مگر زندہ ہیں اتنے میں کوئی اور شخص آیا اور آکر کہنے لگا۔کہ وہ تو گر کر چُور چُور ہو گئے ہیں اس پر میں نے خیال کیا کہ یہ اس کا قیاس ہے اس نے خود ان کی حالت نہیں دیکھی۔جن کے متعلق میں نے یہ رویا دیکھی وہ مخلص احمدی ہیں اور اس طرح گرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دینی لحاظ سے گرنا نہیں ہے کیونکہ میرا تعلق ان سے قائم رہا ہے میں ان کے گرنے پر دوڑ کر گیا۔ان سے سوال کیا ار ان کا حال پوچھا اس کا انہوں نے جواب دیا میں نے ان کا انجام نہیں دیکھا۔وہ مشتبہ رہے ممکن ہے انہیں کوئی جانی یا مالی تکلیف پیش آئے۔الفضل 13۔جولائی 194ء صفحہ 3-2- نیز دیکھیں۔12۔مارچ 1946ء صفحہ 2 315 جولائی 1944ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اپنی اولاد کو مخاطب کرکے کہ رہا ہوں کہ اگر اس قسم کا