رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 247
247 معاہدہ (حلف الفضول۔ناقل ) وہ بھی کریں اور پھر اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں تو خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان پر اپنے فضل فرمائے گا۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو شاید سالها سال سے بھی میرے ذہن میں نہیں آیا ہو گا آٹھ دس سال سے تو حلف الفضول کا لفظ میرے ذہن میں نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ الہام ربانی ہے اس میں نفس کا دخل نہیں۔الفضل 22 جولائی 1944ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔الفضل یکم جنوری 1945ء صفحہ 2913۔ستمبر 1960ء صفحہ 3 اور تغییر کبر جلد ششم جز و چهارم حصہ سوم صفحه 262 28۔جولائی 1944ء 316 فرمایا : جمعرات اور بدھ کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر جاری فرمایا ”مظفر بخت اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ یہ نام اللہ تعالیٰ نے میرا رکھا ہے اس کے بعد یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے اس کی سلامتیوں“ نہ معلوم فقرہ کو جان کر نا مکمل چھوڑ دیا گیا کہ خود ہی اس کا مفہوم نکال لیا جائے۔یا یہ کہ بعد کے الفاظ بھول گئے سلامتیوں کالفظ جمع استعمال کرنابتا تا ہے کہ کئی رنگ کے خطرات مجھے پیش آئیں گے مگر اللہ تعالیٰ مجھے محفوظ رکھے گا چنانچہ دوسرے دن " جو رویا ہوئی اس سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔الفضل 3۔اگست 1944ء صفحہ 1 29۔جولائی 1944ء 317 فرمایا : جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو میں نے دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی اور ایک اور شخص جب آپ کی سواری کسی موڑ پر سے یاپل پر سے گزرتی ہے تو وہاں بھرا ہوا پستول لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب سواری گزر جاتی ہے تو پھر بھاگ کر اگلے پل یا موڑ پر چلے جاتے ہیں یہ خبر رساں مخلص معلوم ہو تا ہے مگر وہ اس وقت اس غلط فہمی میں مبتلاء نظر آتا ہے کہ یہ دونوں صاحبان مخالف ہیں اور بدارادہ رکھتے ہیں اور گویا مجھ پر حملہ کرنے کے لئے ہر موڑ یا پل پر جا پہنچتے ہیں پھر وہ مجھ سے کہتا ہے کہ شاید وہ جن ہیں کہ اس قدر تیز رفتاری سے اگلے پل یا موڑ پر پہنچ جاتے ہیں اس وقت رویا میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا کام ہی یہ ہے کہ میں ریل میں سوار ہو کر دورہ کرتا ہوں اور