رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 244

244 بدلا۔یہ نہیں کہ کوئی رؤیا شروع ہو گیا بلکہ یہ کہ میں نماز سے فارغ ہو کر ایک اور طرف گیا وہاں ایک برآمدہ تو جنوب کی طرف ہے اور ایک مشرق کی طرف اور چوڑائی میں چھوٹا لیکن کافی لمبا صحن ہے وہاں ایک شخص ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اس نے تین ہزار روپیہ دینا تھا وہ دینے کے لئے آیا ہے۔میں نے اسے کہا ابھی رکھو تھوڑی دیر کے بعد لے لوں گا اس وقت میں نے نام نہیں لیا مگر میری مراد سید حبیب اللہ شاہ صاحب سے ہے میں اسے کہتا ہوں سپرنٹنڈنٹ جیل جو ہیں ان کے گھر پر روپیہ رکھ دو اس وقت کوئی اور شخص کہتا ہے کہ یہ کھا جائے گا یہ بڑا ہے اعتبار آدمی ہے اس وقت یہ بھی ساتھ ہی ذہن میں آتا ہے کہ کوئی اور شخص تھا جسے تین ہزار روپیہ دیا گیا تھا اور وہ کھا گیا تھا یہ خیال آتے ہی میں نے اسے آدمی بھیج کر بلوا بھیجا اور کہتا ہوں روپیہ ابھی دے دو اس پر وہ لمبی لمبی تشریح کر دیتا ہے جیسے نادہند لوگوں کا طریق ہوتا ہے میں نے اسے کہا یہ کیا کہتے ہو مجھے ابھی روپیہ دے دو اس نے پھر لمبی تشریح شروع کر دی میں نے کسی سے کہا نا ظر صاحب امور عامہ کو بلالا ؤ وہ جھٹ پٹ سید ولی اللہ شاہ صاحب کو بلالا یا میں نے انہیں کہا اس سے پوچھو۔روپیہ ادا کیوں نہیں کرتے۔انہوں نے پوچھا تو ان کے آگے بھی بہانے بنانے لگا میں نے اس پر کہا یہ ہمیں صحیح بات نہیں بتاتا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے اس سے تھوڑی دیر بعد سید ولی اللہ شاہ صاحب اسے میرے پاس لائے اور کہا یہ کوئی بات آپ سے کہنا چاہتا ہے آپ اس کی بات سن لیں۔میں نے کہا بتاؤ کیا بات ہے تو اس نے کہا۔میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کے گھر روپیہ رکھا تھا مگر وہاں ادھر ادھر ہو گیا خواب میں ہی میں سمجھتا ہوں کہ یہ سید حبیب اللہ صاحب کی بیوی پر الزام لگا رہا ہے۔میں نے کہا کیا وہ چور ہیں تم جھوٹا الزام لگا رہے ہو اس وقت مجھے خیال آیا کہ ام طاہر احمد بر آمدہ میں بیٹھی ہیں ان کی عادت تھی کہ ان کے پاس جو بھی کسی کام کے لئے جاتا اس کی سفارش کر دیتیں اور پھر پیچھے ہی پڑ جاتیں کہ اس کا کام کر دیا جائے انہیں جا کر کہتا ہوں۔لو۔تم نے اس کی سفارش کی تھی اس نے روپیہ کھا لیا وہ کہتی ہیں اس کی عادت ہی ایسی ہے کہ جب کوئی دو ہزار کسی چیز کی قیمت دے تو کہتا ہے میں تین ہزار دیتا ہوں اس طرح اس کی بات سے دھو کا لگ جاتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے نقد روپیہ نہیں دیا گیا بلکہ کوئی چیز دی گئی تھی جس کی قیمت اس نے تین ہزار مقرر کر کے خریدی تھی مگر ادائیگی سے بچنے کی کوشش کرنے لگا میں نے یہ بات سن کر اتم طاہر رحمھا اللہ سے کچھ نہیں کہا اور آنکھ