رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 232

232 61944 297 مئی 1944ء فرمایا : میں نے ایک رؤیا دیکھی جو شائع نہیں ہوئی میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ گیا ہوں ایک بہت بڑا احاطہ ہے جس میں ایک شخص رہتا ہے اور اس احاطہ میں پانچ چھ چار پائیاں بچھی ہیں جو اس کے خاندان کے لوگوں کی ہیں وہ شخص مجھے کہتا ہے کہ آپ یہیں ٹھہریں یہ کہہ کر وہ خود با ہر چلا گیا ہے اور پھر نہیں لوٹا۔میں وہاں ٹہل رہا ہوں وہاں میں نے دو چار پائیاں الگ بچھی ہوئی دیکھیں اور ان میں سے ایک پر میں نے بشری بیگم صاحبہ کو لیٹے دیکھا۔اس سے بھی میں نے سمجھا کہ اس خواب کی تعبیر اسی خاندان سے وابستہ ہے مگر یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی کہ وہ آدمی گیا ہے تو پھر لوٹا کیوں نہیں گو بعد کے واقعات نے اس کی تعبیر ظاہر کر دی کیونکہ برادرم سید عزیز اللہ شاہ صاحب پہلے تو اس رشتہ پر راضی ہو گئے مگر بعد میں سیدہ بشری بیگم کی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ بھی متردد ہو گئے بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب با قاعدہ پیغام گیا تو وہ اس وقت دورہ پر چلے گئے تھے۔الفضل یکم اگست 1944ء صفحہ 5 298 مئی 1944ء فرمایا : میں نے ایک اور رویا میں دیکھا تھا کہ ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے کہ ”مہر آپا کو بلاؤ جس کے معنے ہیں محبت کرنے والی آیا۔تو ان کے اندر اللہ تعالی یہ احساس پیدا کر دے گا کہ مرحومہ کے بچوں کے لئے محبت کرنے والی آپا بن کر نہ صرف ایک عام ثواب حاصل کر سکیں بلکہ ایک بزرگ و مهربان کی خدمت کر سکیں یا ان کی خدمت کا بدلہ اتار سکیں اسی طرح جماعت کی مستورات اور مساکین کے لئے بھی مہر آپا ثابت ہوں۔الفضل یکم اگست 1944ء صفحہ 7 مئی 1944ء 299 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جہاز میں ہوں یا ایک ایسی چیز میں ہوں جو جہاز کی طرز پر ہے اور اس جہاز میں سے ساحل پر اترا جیسے کوئی شخص قبر سے لوٹ کر واپس آتا ہے۔عرصہ کی بات