رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 233

233 ہے دس بارہ سال ہوئے میں نے ایک دفعہ ایک رویا میں دیکھا کہ ایک جہاز ہے جو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کھڑا ہے مدرسہ احمدیہ کا صحن لمبا سا ہے اور کچھ کمرے شمال کی طرف ہیں اور کچھ جنوبی طرف۔میں نے رویا میں دیکھا کہ جنوبی طرف کے جو کمرے ہیں وہاں کمرے نہیں بلکہ ایک بڑا سا جہاز کھڑا ہے اور مدرسہ احمدیہ کا صحن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے جہاز کا یارڈ ہوتا ہے۔میں اس جہاز میں بیٹھنے کے لئے گیا ہوں میرے ساتھ کچھ اور دوست بھی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی میرے ساتھ ہیں ہم اس جہاز میں بیٹھ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس جہاز میں بیٹھ کر ہم مدینہ منورہ جائیں گے۔ہم اس جہاز میں اپنا اسباب بھی رکھ رہے ہیں۔اور لوگ بھی اس میں بیٹھ رہے ہیں کہ اتنے میں میں نے حکم دیا ہے کہ ابھی سامان اتار لو ابھی وقت نہیں آیا کہ مدینہ منوری جائیں چنانچہ سب دوست اتر آئے اور سامان بھی اتار لیا گیا کیونکہ میں کہتا ہوں کہ ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم مدینہ منورہ میں جائیں۔مدینہ جانے سے مراد کسی ایسے مقام کا میسر آجانا ہے جو احمدیت کے لئے اس کی ترقیات اور فتوحات اور کامیابیوں کا ذریعہ ہو جیسے مدینہ منورہ اسلام کی شان و شوکت کا مقام ثابت ہوا اور وہاں پہنچ کر اسلام بڑی سرعت سے چاروں طرف پھیلنا شروع ہوا پس جہاز کے ذریعہ واپس آنے کے ممکن ہے یہ معنے ہوں کہ آج سے دس بارہ سال پہلے جو خبر دی گئی تھی کہ ہم مدینہ منورہ جانے والے ہیں وہ سفر اب طے ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ احمدیت کو اپنے فضل سے ایسا مقام عطا فرمانے والا ہے جو فتوحات اور کامیابیوں کا پیش خیمہ ہو گا اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دوران میں جو ابتلاء آئیں وہ بھی بعض کمزور طبائع کے لئے ٹھو کر کا موجب ہوتے ہیں اور بعض کے دلوں میں ان سے افسردگی بھی پیدا ہوتی ہے۔الفضل 6۔جون 1944ء صفحہ 3 غالبا مئی 1944ء 300 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک شخص کچھ سامان رات کے وقت لایا ہے اور سیڑھیوں پر سے آواز دے کر وہ سامان پکڑاتا ہے سامان دیتے وقت اس نے کہا کہ یہ مرزا منور احمد (سلمہ اللہ تعالیٰ نے بھیجوایا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عزیزم منور احمد اس شخص کو امر تسر کے سٹیشن پر ملے ہیں سامان دیتے وقت اس نے کہا ہے کہ نرگس بھی آئی ہے میں نے پوچھاوہ کہاں ہے تو اس