رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 231

231 296 5-41944 مئی 1946ء فرمایا : میں نے ایک اور رویا دیکھی کہ لڑکی کے والد صاحب مجھے ملے ہیں اور مجھ سے بعض امور میں مشورہ لیتے ہیں مگر اشاروں میں مجھ سے بات کرتے ہیں واضح بات نہیں کرتے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ شادی کے بارہ میں ہی مجھ سے مشورہ کر رہے ہیں خلاصہ ان کی بات کا یہ ہے کہ اگر کسی کے سامنے کوئی بات پیش کی جائے اور وہ اسے کرنا نہ چاہے تو کیا کرے۔میں خواب میں خیال کرتا ہوں کہ مجھے ایسا جواب دینا چاہئے کہ جس سے ان کے شبہ کا ازالہ ہو چنانچہ میں ان کو کوئی جواب دیتا ہوں تو پھر وہ پوچھتے ہیں کہ اچھا اگر کوئی اس بات کے کرنے میں راضی ہو جائے تو پھر جلدی سے اس کام کو کر دے یا دیر کرے میں نے ان سے کہا کہ یہ تو کام کی نوعیت پر منحصر ہے اگر اس کام کے جلدی کرنے میں فائدہ ہے تو جلدی کرے اور اگر دیر سے کرنے میں فائدہ ہے تو دیر سے کرے۔اس خواب سے میں نے سمجھا کہ ضرور اس معاملہ میں پہلے کچھ گڑ بڑ ہو گی چنانچہ سید ولی اللہ شاہ صاحب جو پیغام لے کر گئے تھے واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے والد تو راضی ہیں مگر لڑکی کہتی ہے کہ میں تو شادی کے قابل ہی نہیں پہلے ہی لوگ کہتے تھے کہ انہوں نے ایک بیمار عورت حضرت صاحب کے گھر میں بھیج دی ہے اب اگر میں گئی تو خاندان کی بدنامی ہوگی اور لوگ کہیں گے کہ ایک اور بیمار بھیج دی اور اس طرح یہ خاندان اپنے بیماروں کو بھیج کر بوجھ ڈالتا ہے۔اللفضل یکم اگست 1944ء صفحہ 6 فرمایا : میں نے جو رویا دیکھا تھا اس کا دوسرا حصہ ابھی پورا ہو نا باقی تھا یعنی یہ کہ اگر کوئی راضی ہی ہو جائے تو پھر جلدی کرے یا دیر کرے چنانچہ وہ اس طرح پورا ہوا کہ جب نکاح کے ذکر کے ساتھ رخصتانہ کا ذکر ہوا تو برادرم سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے سید ولی اللہ شاہ صاحب سے کہا کہ رخصتانہ ہم جلدی نہیں کر سکتے تیاری کے لئے ہمیں وقت ملنا چاہئے ہم نہیں چاہتے کہ جلدی میں کوئی سامان نہ کر سکیں اور لڑکی کی دل شکنی ہو اور وہ سمجھے کہ میں چونکہ بہار تھی اس لئے والدین مجھے یونسی پھینک رہے ہیں اس طرح گویا رویا کا ہر حصہ پورا ہو گیا۔الفضل یکم اگست