رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 226

226 اس کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ بیٹھے کی مٹھائی کے اوپر زیادہ میٹھا ہوتا ہے اور اس حلوہ کے اندر زیادہ میٹھا تھا۔فرمایا : اس کے بعد ایک اور نظارہ دیکھا وہ چھوٹا سا ہے اس نظارہ میں وہ حلوہ جو پہلے میرے سامنے آیا۔ذہن میں نہیں آتا لیکن میں کہتا ہوں اگر حلوہ میں تھوڑی سی کڑواہٹ بھی ملالی جائے تو اچھا ہوتا ہے۔حلوہ کی جہاں اور تعبیریں ہیں وہاں اس کی ایک تعبیر عیش دنیا بھی ہے پس ممکن ہے اس کا مطلب یہ ہو کہ زیادہ مٹھاس اچھی نہیں ہوتی زندگی میں اگر کچھ تلخی بھی ہو تو وہ زیادہ بہتر ہوتی ہے کیونکہ تلخی کے بغیر زندگی پاکیزہ نہیں ہوتی۔میں نے جو تعبیر کی ہے وہ اس لحاظ سے ہے کہ اگر خالی آرام و آسائش کی زندگی انسان کو ملتی چلی جائے اور اسے کوئی تلخی نصیب نہ ہو تو اس کے نفس میں بہادری نہیں رہتی اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء بھی آتے رہے تو نفس سے جرات اور بہادری اور قربانی کا مادہ پیدا ہوتا ہے لیکن اگر خالی میٹھا ہی میٹھا ملے تو قربانی کا مادہ جاتا رہتا ہے۔ممکن ہے مجھے دوسرا نظارہ اس پہلے نظارہ کی تعبیر بتانے کے لئے ہی دکھایا گیا ہو اس وقت میرے ذہن میں کوئی دوائی سی آتی ہے اور میں کہتا ہوں اگر یہ دوائی ذراسی اس حلوے میں ملالی جائے تو زیادہ اچھا ہے ممکن ہے اس نظارہ کے ذریعہ مجھے اس خواب کی تعبیر ہی بتائی گئی ہے اب اس تعبیر سے میرا ذ ہن اس طرف بھی منتقل ہوا ہے کہ امتہ القیوم جو مجھے دکھائی گئی اس میں قیوم خدا کا نام ہے یعنی قائم رکھنے والا۔پس امتہ القیوم کو دکھانے اور زیادہ میٹھے حلوے کو رد کرنے کا مطلب یہی ہے کہ خالی میٹھا کھانے سے زوال کے آثار پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور جماعتوں کا قیام باقی نہیں رہتا۔اللفضل 24۔مئی 1844ء 4 294 26۔مئی 1944ء فرمایا عجیب بات ہے کہ آج نماز پڑھاتے ہوئے دو دفعہ میر محمد اسحاق صاحب کی شکل میرے سامنے آئی ہے پہلے بھی ایک آدھ دفعہ ایسا ہو چکا ہے آج ایک دفعہ تو سجدہ میں میں نے میر صاحب کو دیکھا دوسری دفعہ تشہد کی حالت میں دیکھا دونوں دفعہ وہ مسکراتے ہوئے میرے