رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 224
224 علم دیا گیا اور سورۃ فاتحہ سے کئی قسم کے علوم سکھائے گئے وہ دجالی فتنہ کے زمانہ کے لئے مخصوص ہے پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے لحاظ سے اس الہام کی قراءت ب إِنَّمَا أُنزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الشَّيْطَانِ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر سورہ فاتحہ کا جو نزول ہو اوہ صرف دجالی فتنہ کو پاش پاش کرنے کے لئے ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورۃ فاتحہ کا نزول شیطانی دور کے استیصال کے لئے ہے جس کا اثر دجالی فتنہ سے بہت وسیع ہے کیونکہ دجالی فتنہ بھی اس کا حصہ ہے۔فرمایا : اس الہام میں جو تدمیر کا لفظ ہے یہ عربی زبان میں یا تو انسان کی ہلاکت پر بولا جاتا ہے یا بنیادوں اور عمارتوں کی تباہی کے متعلق استعمال ہوتا ہے پس اس لفظ کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دجال کی ظاہری شان و شوکت کی بربادی اور اس کی تباہی کا بھی سورۃ فاتحہ میں ذریعہ بتایا گیا ہے۔بعد میں قلب میں جو تقسیم پیدا ہوئی ہے اس کے ذریعہ مجھے بتایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پر دجالیت کا جو اثر پڑا ہے اس کا ازالہ سورۃ فاتحہ کے ذریعہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔الہام میں جو اِنَّما کا لفظ ہے اس نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ تیرہ سو سال میں سورۃ فاتحہ سے جو کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیا ہے وہ کسی اور نے نہیں لیا در حقیقت اس سورۃ کا پورا استعمال اور کسی زمانہ میں ہوا ہی نہیں۔الفضل 16۔مئی 1944ء صفحہ 1۔2۔نیز دیکھیں۔الفضل 26 نومبر 1947ء صفحہ 3۔5 مئی 1960ء صفحہ 3 292 مئی 1944ء فرمایا ایک دفعہ رویا میں میں نے دیکھا کہ ہمارے مکانات کے ایک کمرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ایک چارپائی پر بیٹھے ہیں اور میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں۔اتنے میں زلزلہ آیا اور وہ زلزلہ اتنا شدید ہے کہ اس کے جھٹکوں سے مکان زمین پر لگ جاتا ہے بار بار جھٹکے آتے ہیں اور بار بار مکان جھک کر زمین کے ساتھ لگ جاتا ہے یہ دیکھ کر میں وہاں۔بھاگنے لگا ہوں مگر معا مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تو یہیں تشریف رکھتے ہیں میں کس طرح بھاگ سکتا ہوں جب زلزلہ ہٹا اور میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ میاں عبد اللہ خاں صاحب باہر کھڑے ہیں اتنے میں پھر زلزلہ آیا اور مکان اپنی جگہ پر واپس چلا گیا