رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 215
215 نہیں لیتا وہ ہمارے عزیزوں میں سے ہی ہے مجھے رات کو یہ نظارہ دکھایا گیا کہ وہ کہہ رہا ہے انگلی بھی کٹ گئی اور مرغی بھی ذبح ہو گئی “ اللہ تعالیٰ کا جو کلام ہوتا ہے اس میں بڑی فصاحت پائی جاتی ہے اس فقرہ میں بھی عجیب مضمون بیان کیا گیا ہے انسان مرغی کو جب ذبح کرنے لگتا ہے تو بعض دفعہ غلطی سے انگلی سامنے آکر کٹ جاتی ہے مگر اس وقت فقرہ کی ترتیب بالکل اور ہوتی ہے اس وقت انسان یہ کہا کرتا ہے مرغی تو ذبیح ہو گئی مگر میری انگلی بھی کٹ گئی۔گویا وہ مرغی تو ذیح کرنا چاہتا تھا مگر یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی انگلی کٹے لیکن فقرہ بتا تا ہے کہ مرغی سے جانور نہیں بلکہ انسانی جان مراد ہے کیونکہ الفاظ یہ ہیں۔انگلی بھی کٹ گئی اور مرغی بھی ذبح ہو گئی گویا دونوں باتیں ہو گئیں حالانکہ وہ نہ مرغی ذبیح کرنا چاہتا ہے نہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی انگلی کئے۔جب انسان یہ کہتا ہے کہ مرغی ذبح کرتے ہوئے میری انگلی کٹ گئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے ایک چیز خود چاہتا تھا وہ خواہش رکھتا تھا کہ مرغی ذبح ہو جائے مگر یہ نہیں چاہتا تھا کہ انگلی کٹے لیکن اس فقرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ مرغی ذبح کرنا چاہتا تھا اور نہ انگلی کٹوانا چاہتا تھا گویا دونوں کا طالب نہیں تھا لیکن انگلی بھی کٹ گئی اور مرغی بھی ذبح ہو گئی یعنی دو نقصان پہنچے ایک انگلی کے کٹنے کے رنگ میں اور ایک گھر کی جان جانے کے رنگ میں۔انگلی کٹنے سے مراد یہ ہے کہ انگلی ہاتھ کی طاقت کی علامت ہوتی ہے۔پس انگلی کٹنے کے معنے یہ ہیں کہ علاوہ ایک جان ضائع ہونے کے طاقت و قوت کو بھی نقصان پہنچ جائے گاورنہ وہ مرغی جس کو انسان ذبیح کرنا چاہتا ہے اس میں تو وہ خود خواہش مند ہوتا ہے کہ مرغی ذبح ہو اور وہ اس کے ذبح ہونے پر افسوس نہیں کیا کرتا صرف انگلی کٹنے کا اسے افسوس ہوتا ہے۔الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحہ 2 285 26 اپریل 1944ء فرمایا : دوسرا ایک الہام ہے جو اپنے اندر بڑی بشارت رکھتا ہے گو اس میں فکر کا پہلو بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ ایک ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور ذمہ داری بہت کم لوگ ادا کیا کرتے ہیں بہر حال آج رات مجھے یوں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے۔