رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 205
205 مجھے خط ملا کہ وہاں اسلام کی ایک زبر دست رو چل رہی ہے اور بارہ مبلغوں کی سخت ضرورت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہاں اسلام کی ترقی کے لئے جلد ہی کوئی تغیر پیدا کرنے والا ہے۔الفضل 20۔اپریل 1944ء صفحہ 2 2۔اپریل 1944ء 269 فرمایا : پرسون صبح میری آنکھ کھلی تو میرے دل پر یہ الفاظ بطور القاء جاری تھے کہ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس کے متعلق ہیں مگر یہ الفاظ ہیں بہت مبارک۔اس آیت کا پہلا حصہ نہیں تھا صرف اتناہی فقرہ تھا۔يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فرمایا وہ جو الہامی الفاظ تھے کہ يَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيهِمْ یہ دتی کے واقعہ کے متعلق معلوم ہوتے ہیں وہاں بالکل اسی طرح ہوا کہ ہمارے چار چار پانچ پانچ آدمیوں کے ذریعہ ان کے دودو چار چار سو آدمی پٹ گئے۔الفضل 21 جولائی 1944ء صفحہ 1۔نیز دیکھیں۔الفضل 3۔مئی 1944ء صفحہ 5 270 اپریل 1944ء فرمایا : میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ میں ایک سٹیشن پر کھڑا ہوں جس کے دو حصے ہیں مگر اس کی دوسری طرف نظر نہیں آتی۔درمیان میں ایک کھڑکی کا پردہ ہے جو دونوں کو جدا کر رہا ہے مگر وہ پر وہ اس طرح کا ہے کہ کئی لکڑی کے ستون تر چھے گاڑے ہوئے نظر آتے ہیں نیچے سے تو دیوار بالکل بند ہے مگر اوپر جا کر جو لکڑیاں یا بالے ہیں ان میں ایک شگاف ہے اور اس شگاف میں سے ارم طاہر مجھے جھانک رہی ہے میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں نیم باز ہیں اور وہ دوسری طرف کھڑی ہو کر اس شگاف میں سے سٹیشن کے اس حصہ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔میں نے سمجھا کہ یہ در حقیقت اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد کا ایک نظارہ دکھایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ سلسلہ متوازی چلتا چلا جا رہا ہے۔الفضل 31۔مئی 1944ء صفحہ 2