رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 197
197 ہو چکا تھا اور ایک لوٹا پانی کے معنے یہ تھے کہ اب وہ تھوڑا عرصہ ہی زندہ رہیں گی چنانچہ اس رویا کے بعد وہ صرف اڑتالیس گھنٹے زندہ رہیں اس کے بعد وفات پاگئیں۔اللفضل 14۔مارچ 1944ء صفحہ 3 مارچ 1944ء 258 فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ شیخ بشیر احمد صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ام طاہر کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے۔پھر کہنے لگے انہوں نے آپ تک پہنچانے کے لئے مجھے کہا تھا کہ سو روپیہ فلاں عورت کو دے دیں ایک عورت کا نام انہوں نے بتایا اور دوسری کا نام انہوں نے نہ بتایا یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کا نام بھول گئے ہیں مگر ساتھ ہی کہا کہ عجیب بات ہے کہ جب وہ وصیت کر رہی تھیں اور ان کا دل ساکت ہو رہا تھا تو ان کی طبیعت بالکل مطمئن تھی اور ان کے دل پر اس وقت گھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔خواب کا بعض دفعہ ایک حصہ پورا کر دیا جائے تو وہ ٹل جایا کرتی ہے اس بناء پر میں نے یہاں سے ان کو دو سو روپیہ دیا اور کہا کہ ایک سو روپیہ فلاں عورت کو دے دو اور ایک سو روپیہ جس عورت کو چاہو دے دو۔مگر شرط یہ ہے کہ پورا سو دو۔تقسیم کر کے مختلف مستحقوں کو نہ دو۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس عورت کو انہوں نے سو روپیہ بھجوایا اس کے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے دو دن پہلے کسی سے کہا تھا کہ میرے بیٹے کو سو روپیہ کی ضرورت ہے میری فلاں فلاں چیزیں فروخت کر دو اور اس کے لئے روپیہ کا انتظام کر دو۔الفضل 14۔مارچ 1944ء صفحہ 3 259 مارچ 1944ء فرمایا : میں نے ام طاہر کی وفات کے چند دن بعد رویا میں دیکھا کہ اماں جان کے دالان میں ایک تخت پوش پر ہمارے سب بچے بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں کہ اتنے میں بیت الدعا کے پیچھے سے ام طاہر آتی ہیں اور کہتی ہیں میری اولاد کو کوئی صدقہ نہ کھلائے۔فرمایا جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو لوگ جذبات رحم کے ماتحت اس کے بچوں کی مدد کر دیا کرتے ہیں اور مجھے بتایا گیا کہ یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہی ہے۔ہمیں بچوں کے اند رو قار پیدا کرنا