رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 16

16 مطلب یہ ہے کہ جس طرح شرط میں جس کو زیادہ یقین ہوتا ہے وہ اپنی بات کی تائید میں دوسرے کی تھوڑی رقم کے مقابلے میں زیادہ رقم شرط کے طور پر رکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنی بات پر زور دینے کے لئے اس فقرہ کو استعمال فرماتا ہے۔لیکن اس رویا کے دیکھنے کے وقت مجھے اس جملہ کے معنی معلوم نہ تھے میں اس وقت سفر میں تھا جب یہاں آیا تو انگریزی خوان احباب سے اس کے معنے پوچھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تو معلوم نہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد یہی محاورہ ایک انگریزی اخبار میں پڑھا۔ولایت میں گھوڑوں پر شرط لگاتے ہیں کہ اگر ہمارے گھوڑے سے فلاں گھوڑا جیت گیا تو ہم ایک کے مقابلہ میں تین دیں گے یا اس طرح کچھ اور۔غرض اس رویا کا مطلب یہ ہے کہ میرے کان میں آواز آئی کہ سن میں تیرے کان میں تجھے ایک بات بتاؤں اور وہ یہ کہ زمین ہلائی جائے گی (یہ سات آٹھ سال کا رویا ہے ممکن ہے اس سے مراد موجودہ جنگ ہی ہو) کیونکہ لوگ میرے کلام کو بالکل چھوڑ چکے ہیں اور میں اس بات پر شرط لگانے کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی میرے مقابلہ میں ایک چیز پیش کرے تو میں اس سے تنگنی پیش کروں گا کہ لوگ میری اتنی بھی پرواہ نہیں کرتے جتنی تاگے کی۔جنوری 1909ء ذکر الی ( تقریر جلسہ سالانہ 27 - دسمبر 1916 ء طبع اول) صفحہ 5 23 فرمایا : جنوری 1909ء میں میں نے یہ رویا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان۔سب تیار ہے لیکن اس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے۔کڑیاں پڑ چکی ہیں اس پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اسی کے پاس میر محمد اسحاق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور نثار احمد مرحوم (جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحاق صاحب کے ہاتھ میں ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں۔نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گاہی لیکن ابھی وقت نہیں۔بڑے زور سے منع کر کے اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لوٹا ہوں لیکن تھوڑی دور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحاق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی